حکمران جماعت کی ’میڈیا گردی بند کرو‘ مہم کا سبب

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کارکنوں نے منگل کو ٹوئٹر پر ’میڈیا گردی بند کرو‘ کے ہیش ٹیگ سے ایک ٹرینڈ چلایا جو کچھ دیر کے لیے پاکستان میں سب سے زیادہ ٹوئیٹ ہونے والا ہیش ٹیگ بنا رہا۔

سہہ پہر 3 بجے کے لگ بھگ شروع ہونے اس ہیش ٹیگ پر رات 12 بجے تک 63 ہزار ٹوئیٹس ہوچکی تھیں۔ یہ ٹریند انصافینزپاور نامی ٹوئیٹر اکائونٹ سے شروع کیا گیا اور پہلی ٹوئیٹ میں صرف اتنا لکھا گیا کہ اپنا کی بورڈ پکڑیں اور میڈیا گردی بند کرو کا ٹرینڈ شروع کریں۔

اگلے چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے ہزاروں حامیوں نے مختلف صحافیوں پر نام لے کر اور میڈیا پر بالعموم نہ صرف تنقید کی بلکہ انہیں جانوروں سے تشبیہ دی۔

بیشتر ٹی وی چینلز کے لوگوز کی تصاویر جمع کرکے اوپر sold لکھا گیا۔ لفافہ صحافت کی بات ہوئی۔ کچھ ایسے کارٹون شیئر کیے گئے جن میں پین (قلم) کے اوپر حصے میں ایک ہاتھ سکے ڈال رہا ہے جبکہ اسی قلم سے ایک دوسرا ہاتھ کچھ تحریر کر رہا ہے۔

فوری طور پریہ واضح نہیں ہوا کہ تحریک انصاف کے حامی کس بات پر برہم  ہیں لیکن جلد ہی حقیقت سامنے آنے لگی۔

اس ٹوئٹرٹرینڈ کا سب سے بڑا ہدف صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر ثابت ہوئے جو سانحہ ساہیوال پر تحریک انصاف حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔

حامد میر پرتنقید منگل سے پہلے بھی جاری تھی۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تھپڑ مارنے کی بات کی ہے۔ حامد میر نے ایک ٹوئیٹ میں اس الزام کو جھوٹ قرار دیا ہے۔

اس الزام کا سبب 24 نیوز ٹی وی کے ایک ویڈیو کلپ سے ہے جو پیر سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ اس کلپ میں ٹی وی کے میزبان حامد میر کو بطور تجزیہ کار فون پر لیتے ہیں اور ان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے مقتول خلیل کے زخمی بیٹے عمیرپاس پھول لے کر آنے کے حوالے سے سوال کرتے ہیں۔ حامد میر جواب دیتے ہیں کہ ’’میں ہوش میں ہوں گا تو میں پھول لے کے آنے والا جو ہے نا میں اسےکے۔۔۔۔ جوتا مار دوں گا یا میں اس کو تھپڑ ماروں گا اور کہوں گا کہ گیٹ آئوٹ بھاگ جائو یہاں سے، تمہیں تمیز نہیں، تمہیں پتہ نہیں ہے کہ میرا باپ مر گیا ہے، میری ماں مر گئی ہے،اور تم ادھر پھول لے کرآگئے ہو۔‘‘

اسی جذباتی گفتگو میں حامد میر نے سی ٹی ڈی بنانے والے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر بھی تنقید کی۔

اگرچہ حامد میر نے یہ نہیں کہا کہ وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو تھپڑ مارتے اور پیر کو انہوں نے ٹوئٹر پر یہ بھی لکھا کہ ’’سوشل میڈیا پر حکومت کی حمائت کرنا بہت آسان ہے گالی گلوچ کرنا بھی بہت آسان ہے لیکن مقتول خلیل کے بھائی جلیل کا دکھ سن کر اپنے آنسو قابو میں رکھنا بہت مشکل ہے جو دس سالہ عمیر کی باتیں سن کر چیخنے لگتا ہے۔‘‘

تاہم تحریک انصاف کے حامیوں نے منگل کے روز اپنی منظم مہم میں نہ صرف حامد میر کو ہدف پر رکھا بلکہ سانحہ ساہیوال کی رپورٹنگ پر دیگر صحافیوں اور ٹی وی چینلز و اخبارات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

تحریک انصاف کے برطانیہ میں مقیم ایک سوشل میڈیا کارکن فیصل شاہ نے لکھا، ’’ ساہیوال سانحے پر پٹواریوں کی غیرت جاگنے سی ایک بات تو واضح ہوگی کے ان میں غیرت ہے بس جان بوجھ کر 40 سال سے بےغیرت بنے ہوئے ہیں۔‘‘

دیگر ٹوئیٹس میں اس سے بھی زیادہ سخت زبان استعمال کی گئی۔

انصافینز پاور کے ایڈمن شاہد خان وزیر نے ٹرینڈ شروع کرنے کے کئی گھنٹے بعد لکھا کہ ہر روز سارا دن کسی ایک واقعے پر مسلسل ’غیراہم‘خبریں تیار کرنے کے  دباؤ کا نتیجہ اس واقعے کی حد سے زیادہ نمائندگی کی  صورت میں نکلتا ہے، مثال کے طور پر جب ایک چھوٹا سا دھماکہ بھی ہوتا ہےتو بیشتر نیوز چینلز کلی طور پر صرف اسی واقعے پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

ایک اور ٹوئیٹ میں شاہد خان وزیر نے کہا کہ ’’حتیٰ کہ سما (ٹی وی) بھی کسی حد تک پی ٹی آئی کے خلاف ہوگیا ہے۔ کبھی عمران کا انتہائی حامی سمجھا جانے والا اے آر وائی تھوڑا سا پی ٹی آئی کے خلاف ہوگیا ہے۔ گوکہ صابر شاکر جیسے ہیرے ایماندار رہ کر اچھا کام کر رہے ہیں۔‘‘

صابر شاکر کے علاوہ ایک اور ٹی وی میزبان جس کو تحریک انصاف کے حامیوں کی ٹوئیٹس میں سراہا گیا وہ عارف حمید بھٹی ہیں۔

یاد رہے کہ ماضی قریب تک تحریک انصاف کے زبردست حامی سمجھے جانے والے حسن نثار بھی آج کل عمران خان کے سخت نقاد بنے ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے مقتول خلیل کے ساہیوال اسپتال میں موجود بچوں کو گلدستہ لے کر ملنے پر ہونے والی تنقید کے مزید جواب میں تحریک انصاف کے حامیوں نے نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی تصاویر شیئر کیں جو اسپتال میں داخل لوگوں سے گلدستے لے کر مل رہے ہیں۔

قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی بچی زینب کے والد کے ساتھ پریس کانفرنس میں اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ہنستے ہوئے تصاویر بھی شیئر کی گئیں۔

حکومتی میڈیا منیجرز بدلنے کا مطالبہ

تحریک انصاف کے حامیوں نے حکومت کو کچھ مشورے بھی دیئے۔

پاکستان میں میڈیا پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز کی اشتہارات کی آمدن میں کمی آچکی ہے۔ حکومت نے نیوز ٹی وی چینلز کے اشہتارات کے نرخ ایک تہائی کر دیئے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کے کئی حامیوں نے عمران خان کی حکومت سے میڈیا کی مشکیں مزید کسنے کا مطالبہ کیا۔

خبریں دینے والے نجی ٹی وی چینلز کی آمدن پر حکومت نے کلہاڑا چلا دیا

طلعت خان نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ہٹانے کامطالبہ کیا کیونکہ بقول ان کے وہ میڈیا کو ’’کنٹرول‘‘ کرنے میں ناکام ہوگئے۔ انہوں نے عمران خان کو ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان کی پیروی کرتے ہوئے چند چینلز بند کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ شعیب سڈل اور (سابق ڈی جی آئی ایس آئی) احمد شجاع  کو لایا جائے۔

ایک ٹوئیٹ حرف بحرف ایک سے زائد افراد نے ٹوئیٹ کی،’’میڈیا ہینڈلنگ کی ذمہ داری فواد چوہدری پر ہے اور فواد چوہدری اپوزیشن کو تو بھرپور جواب دیتے ہیں لیکن اس میڈیا گردی کے خلاف انہوں نے ابھی تک کوئی کام نہیں کیا، جعلی خبروں کی بھرمار ہے اور حکومتی عہدے داران ریٹویٹ کر کے فیک کہتے ہوئے شرم سے ڈوب بھی نہیں مرتے۔‘‘

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا امور افتخار درانی پر بھی درست ’’میڈیا ہینڈلنگ‘‘ نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔

تاہم تحریک انصاف کے ہی صدام الحق نے طلعت خان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ فواد خان کی تعریف کرنی چاہیئے، پہلی دفعہ کسی نے ’’میڈیا مافیا‘‘ پرہاتھ ڈالا ہے۔

محدود ردعمل

سوشل میڈیا پر بعض اوقات مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں لیکن ’’میڈیا گردی‘‘ کے ٹرینڈپر تحریک انصاف کے حامیوں کسی کوئی قابل ذکر ردعمل کاسامنا نہیں کرنا پڑا۔

چند ایک لوگوں نے صرف یہ کہا کہ الیکشن سے پہلے یہی میڈیا تحریک انصاف کا حامی بنا ہوا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.