شوہر نے گھر سے نکالا- ماں نے معصوم بچی سمندر میں ڈبو دی

شوہر نے گھر سے نکال دیا، والدین نے واپس قبول کرنے سے انکار کیا، خاتون نے دو سالہ بچی سمندر میں ڈبو کر مار دی۔

المناک واقعے نے کراچی کو لرزا کر رکھ دیا۔ ’’شوہر کے گھر سے تمہارا جنازہ ہی نکلے‘‘ کا جو اندھا سبق کئی شادی شدہ خواتین کی جانیں لے چکا ہے وہ اب ایک معصوم کی زندگی نگل کیا۔

پولیس کے مطابق اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون شکیلہ کے شوہر نے اسے  گھر سے نکال دیا تھا۔ جس پر خاتون نے اپنی دو سالہ ننھی پری کو سی ویو پر سمندر میں پھینک دیا۔

لوگوں نے شکیلہ کو بچی سمندر میں پھینکتے دیکھا اور پولیس کی گشتی پارٹی کو اطلاع دی۔ کافی لوگ موقع پر جمع ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ ساحل کے ایس ایچ او بھی پہنچ گئے۔

انعم کی ایک یادگار تصویر
انعم کی ایک یادگار تصویر

کچھ دیر بعد سمندر نے ننھی انعم کی لاش ساحل پر اگل دی۔ جو ریت میں اس حالت میں دھنسی ہوئی ملی کہ بچی کا منہ ریت میں دفن تھا۔

جب لاش اٹھا کر ایمبولینس میں رکھی گئی تو انعم کے چہرے پر ریت جمی ہوئی تھی۔ جس ماں نے اس کا چہرہ صاف کرنا تھا وہ اس کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوچکی تھی۔

پولیس کے مطابق خاتون کی شادی 2011 میں محمد راشد سے ہوئی تھی اور 2016 میں انعم کی پیدائش ہوئی۔

بچی کی پیدائش کے بعد شوہر نے شکیلہ اور بچی کو گھر میں رکھنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی تاہم والدین نے بھی اسے واپس چلے جانے کو کہا۔

شکیلہ کا کہنا تھا کہ اُس نے یہ انتہائی قدم حالات کی وجہ سے اٹھایا ہے، پولیس نے خاتون کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے ننھی انعم کے باپ کو بھی گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ سنگدل باپ کی ہی بدولت بچی کی ماں قتل پر مجبور ہوئی، بچی کے قتل کے مقدمے میں اس کو بھی ملزم نامزد کیا جائے گا۔

بیٹی کو سمندر میں ڈبو کر مارنے والی شکیہ پولیس تحویل میں
بیٹی کو سمندر میں ڈبو کر مارنے والی شکیہ پولیس تحویل میں

تفتیش میں انکشاف ہوا کہ بےحس باپ بچی پر خرچ کے لئے ہفتہ وار محض ایک سو روپے دیتا تھا، بچی کا باپ راشد بطور لیب ٹیکنیشن ملازمت کرتا ہے۔

شکیلہ نے خود بی بی اے کی ڈگری لی تھی۔ وہ سلطان آباد کے علاقے کی رہائشی ہے۔ پولیس کو اپنے بیان میں اس نے بتایا کہ شوہر نے گھر سے نکالا تو وہ والدین کے گھر آگئی، والدین نے کہا کہ ہم نے تمہاری شادی کردی، اب تمہیں نہیں رکھتے، اس کے بعد وہ کبھی منت سماجت کرکے والدین کے گھر تو کبھی شوہر کے گھر رات رک جاتی تھی۔ اپنا اور بچی کا کوئی مستقبل نظر نہیں آیا تو اس نے بچی سمندر برد کردی۔

پاکستان میں بیشتر والدین اپنی شادی شدہ بیٹیوں کو ہر حال میں شوہر کے ساتھ نبھا کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ شادی کے موقع پر اکثر لڑکیوں کو یہ الفاظ سننے کو ملتے ہیں، ’’اب اس گھر سے تمہارا جنازہ ہی اٹھے گا۔‘‘

اسی نصیحت کے سبب کئی لڑکیاں سسرال میں ہی غیر طبعی موت سے ہمکنار ہوتی ہیں۔

ایک نظر ادھر بھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.