بھارت میں مردوں کی 40 سے 55 سال چھوٹی لڑکیوں سے شادیاں

پنجاب کے ضلع سنگرور کے شمشیر سنگھ نے چندی گڑھ کے گردوارے میں نوپریت کور سے شادی کی
پنجاب کے ضلع سنگرور کے شمشیر سنگھ نے چندی گڑھ کے گردوارے میں نوپریت کور سے شادی کی

بھارت میں بوڑھے مردوں کی اپنے سے 42  سے 55 سال چھوٹی لڑکیوں سے شادیوں کا سلسلہ رکا نہیں۔  یہ شادیاں کرنے والوں میں کم ازکم ایک وزیر سے لے کر عام افراد تک شامل ہیں۔

ایسی تازہ ترین ’ بے جوڑ شادی‘ بھارتی ریاست پنجاب میں ہوئی ہے جہاں 76 سال کے شمشیر سنگھ نے اپنے سے 42 برس چھوٹی 24 سالہ نوپریت کور سے بیاہ رچایا۔ یہ شادی ہریانہ اور پنجاب کے مشترکہ دارالحکومت چندی گڑھ کے ایک گردوارے میں ہوئی۔ شادی کے بعد دونوں میاں بیوی کے خاندان ان کے دشمن بن گئے ہیں۔

شمسیر سنگھ اور نو پریت کور کی شادی گذشتہ ماہ یعنی جنوری میں ہوئی۔ شمسیر کی پہلی اہلیہ دنیا میں نہیں رہی اور حکام نے ان کی شادی کو ہر لحاظ سے قانونی اور جائز قرار دیا ہے۔

تاہم شادی کے بعد جب یہ جوڑا ضلع سنگرور کی تحصیل دھوری کے گائوں بلیاں پہنچا اور وہاں اپنی زندگی شروع کی تو انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ دونوں نے اپنی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر ہریانہ و پنجاب کی مشترکہ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائیکورٹ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ان دونوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق شمسیر اور نوپریت کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ یہ ’بے جوڑ شادی‘ کی ہے اور وہ اسے نہیں مانتے۔

جوڑے کے وکیل موہت سادنا نے بتایا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے شمشیر اور نوپریت کو تحفظ دینے کا حکم 4 فروی کو جاری کیا گیا۔ سنگرور کے ایس ایس پی نے احکامات ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے قانون کے مطابق تحفظ فراہم کرے گی۔

اس جوڑے اور ان کے وکیل نے یہ بتانے سے انکار کردیا ہے کہ یہ شادی کن حالات میں اور کیسے ہوئی۔ انٹرنیٹ پر ان کی ایک تصویر گردش کر رہی ہے جو گردوارے میں شادی کے موقع پر لی گئی تھی۔

لیکن یہ انوکھی یا عجیب شادی اس نوعیت کی پہلی شادی نہیں۔

چار برس پہلے جنوری 2014 میں ریاست منی پور کے 77 سالہ وزیر صحت نے اپنے سے 53 برس چھوٹی لڑکی سے شادی کی تھی۔ اس دلہن کی عمر بھی 24 برس تھی۔

منی پور کے اس وقت کے  77 سالہ وزیر صحت نے  24 برس کی لڑکی سے شادی کی اور بعد میں چل بسے
منی پور کے اس وقت کے 77 سالہ وزیر صحت نے 24 برس کی لڑکی سے شادی کی اور بعد میں چل بسے

وزیر صحت پھونگزا تنگ توسنگ کی تمام اولاد بیرون ملک منتقل ہوچکی تھی اور وہ بھارت میں اکیلے رہ گئے لہٰذا انہوں نے 24 سالہ Thangngaihsang  سے اس کے والدین کی مرضی سے شادی کرلی۔

ان کی شادی کی تقریب میں کئی وزرا بھی شریک ہوئے تھے۔

تاہم 19 دسمبر 2018 کو دلہا میاں نئی دہلی کے اپولو اسپتال میں دم توڑ گئے اور بے جوڑ کی شادی میں دلہن اکیلی رہ گئی۔

ایک بے جوڑ شادی نے مارچ 2018 میں بھارت کے سوشل میڈیا صارفین کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔ ریپبلک آف انڈیا نامی ٹوئیٹر اکائونٹ سے دو تصاویر شائع کی گئی تھیں۔ ان تصاویر میں ایک لگ بھگ پندرہ سالہ لڑکی ایک بوڑھے سیاہ فام شخص کے ساتھ بیٹھی ہے۔ دونوں کے گلے میں ہار ہیں۔

تصاویر شائع ہونے کے بعد لوگوں نے بتایا کہ ریاست کرناٹک میں اس پندرہ سالہ لڑکی کی شادی 70 برس کے نائیجرین شخص سے ہوئی ہے۔ لڑکی اور اس کے والدین مسلمان ہیں جبکہ بوڑھا نائجیرین دلہا بھی مسلمان ہیں۔

کئی لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ والدین نے رقم لے کر اپنی کم عمر لڑکی کی شادی نائجیرین شخص سے کی۔

ریاست کرناٹک کی اس مسلمان لڑکی کی 70 سالہ نائجرین شخص سے شادی کی تصویر وائرل ہوئی
ریاست کرناٹک کی اس مسلمان لڑکی کی 70 سالہ نائجرین شخص سے شادی کی تصویر وائرل ہوئی
  1. عمرفاروق منہاس کہتے ہیں

    شرم آنی چاہیے ایسے والدین کو۔ اور ان بوڑھوں کو بھی۔اللہ انکو ہدائت دے آمین

تبصرے بند ہیں.