یورپی کمپنی کادنیا کے سب سے بڑے مسافر بردار طیارے بنانے سے انکار

دنیا کے سب سے بڑے مسافر بردار ہوائی جہا زاے 380 بنانے والی یورپی کمپنی ایئربس نے مزید طیارے بنانے سے انکار کر دیا۔

کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ اے 380 طیارے مزید تیار نہیں کرے گی۔ کمپنی کے مطابق ایئربس 2020 میں اے 380 طیاروں کی فراہمی بند کردے گی۔

دنیا کے سب سے بڑے مسافر بردار ہوائی جہا زاے 380 بنانے والی یورپی کمپنی ایئربس نے مزید طیارے بنانے سے معذرت کرلی۔

ایئربس نے اے 380 طیارے مزید نہ تیار کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ عالمی سطح پر اس طیارے کی مانگ میں کمی ہوئی ہے اور دنیا کے اس سب سے بڑے طیارے کے سب سے بڑے خریدار ایمریٹس ایئرلائنز نے بھی اس کے آرڈرز کم کردیے ہیں۔

ایئربس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام اینڈرز کا کہنا ہے کہ ‘یہ تکلیف دہ فیصلہ ہے، ہم نے اس طیارے کو بنانے میں کافی محنت، وسائل اور اپنا پسینہ بہایا تھا لیکن ظاہر ہے کہ ہمیں حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا، ایمریٹس ایئرلائنز کی جانب سے آرڈرز کم کیے جانے کے بعد اب ہمارے پاس اتنے آرڈرز موجود نہیں کہ اے 380 بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے’۔

کمپنی کے اس فیصلے سے چار یورپی ممالک میں کم سے کم 35 ہزار افراد بے روزگار ہوں گے۔

خیال رہے کہ اے 380 اب تک کا دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ ہے جس نے پہلی بار 14 برس قبل اڑان بھری تھی۔ اس طیارے کے وزن اور لمبائی چوڑائی کی وجہ سے دنیا کے متعدد ایئرپورٹس کو اپنے رن ویز میں تبدیلی کرنی پڑی تھی اور متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائنز اس کی سب سے بڑی خریدار رہی ہے۔

مپنی کے مطابق اے 380 طیارے کی تیاری کے منصوبے پر تقریباً 25 ارب ڈالر کے اخراجات آئے اور ایک طیارہ تقریباً 44 کروڑ 56 لاکھ ڈالر میں تیار ہوتا ہے۔

ایمریٹس نے اے 380 خریدنا کیوں بند کیا؟

اماراتی فضائی کمپنی ایمریٹس نے نئے اے 380 طیاروں کی خریداری سے معذرت کرلی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اے 380 کے بجائے ایئربس سے 40 اے 330-900 طیارے اور 30 اے 350-900 طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

ایمریٹس کے مطابق اس نئے معاہدے کی مالیت 21.4 ارب ڈالرز ہے اور یہ طیارے 2021 سے 2024 کے دوران فراہم کردیے جائیں گے۔

ایمریٹس کے مطابق سابقہ معاہدے کے تحت 2019 سے 2021 کے دوران اسے ایئربس کی جانب سے مزید 14 اے 380 طیارے ملیں گے جس سے اس کے پاس موجود اے 380 طیاروں کی مجموعی تعداد 123 ہوجائے گی۔

تبصرے بند ہیں.