ٹرمپ کا ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کیلیے فنڈز حاصل کرنے کی خاطر ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے ٹرمپ کو میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کیلیے فنڈز جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

وائٹ ہاﺅس میں اپنے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے ملک کو میکسیکو سے آنے والی منشیات ، جرائم پیشہ افراد ان غیر قانونی تارکین وطن سے بچانے کی ڈیکلیریشن پر دستخط کرنے والے ہیں ۔ہمیں قومی سلامتی کی خاطر اس دیوار کی تعمیر کرنی ہی ہوگی چاہے اس کے لیے ہمیں کوئی بھی طریقہ اپنانا پڑے ۔

ٹرمپ نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دیوار کی تعمیر کیلیے ایمرجنسی کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ یہ کام جلد از جلد مکمل ہو۔

وائٹ ہاﺅس حکام کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ڈیکلیریشن پر دستخط سے صدر ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہوجائے گا کہ وہ بجٹ میں فوج کیلیے مختص ہونے والی رقم میں سے 3 اعشاریہ 6 ارب ڈالر دیوار کے فنڈز میں ٹرانسفر کرسکیں گے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ صدارتی اختیار کے تحت ڈھائی ارب ڈالر اور وزارت خزانہ کے فنڈز سے بھی 600 ملین ڈالر دیوار کیلیے حاصل کرسکیں گے۔

امریکی کانگریس نے میکسیکو کی سرحد پر جنگلہ لگانے کیلیے 1 اعشاریہ 375 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی لیکن اب ٹرمپ کے ہاتھ میں 8 ارب ڈالر کے فنڈز آگئے ہیں۔

ان فنڈز کے بل بوتے پر نہ صرف وہ دیوار کی تعمیر میں تیزی لاسکتے ہیں بلکہ نئے بیریئرز بھی کھڑے کرواسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ میں 70 کی دہائی میں ایمرجنسی کا قانون منظور ہوا تھا جس کے بعد سے اب تک امریکی صدور 58 بار ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرچکے ہیں جن میں سے 31 ایمرجنسیز آج بھی موجود ہیں۔

سابق صدور کی جانب سے نافذ کی جانے والی ہنگامی حالت زیادہ تر بیرونی خطرے سے نمٹنے کیلئے لگائی جاتی تھی۔

تبصرے بند ہیں.