طالبان اور امریکی وفد کا ظہرانہ- زلمے خلیل باریکی دکھا گئے

طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور کیلئے قطر پہنچنے والے دو طرف کے مذاکرات کاروں کے اعزاز میں قطری حکومت نے پیر کو ظہرانہ دیا۔ جبکہ امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان کو سفری سہولیات دینے پر پاکستان کو سراہا جائے۔

اس تقریب میں طالبان کا مذاکراتی وفد، امریکی مذاکراتی وفد، قطر کے حکام اور دیگر سفارت کاروں نے شرکت کی۔

امریکی صدر کے ایلچی اور مذاکراتی وفد کے سربراہ زلمے خلیل زاد نے ٹوئٹر پر بتایا کہ انہوں نے طالبان رہنما ملاعبدالغنی برادر سے ظہرانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ’اسلامی امارات افغانستان‘ کے وفد کو تقریب میں مدعو کیے جانے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان باضابطہ مذاکرات منگل سے ہوں گے۔

ملاعبدالغنی برادر سمیت طالبان وفد اتوار کو دوحہ پہنچا تھا۔ افغان ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے اعلان کردہ مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن انس حقانی وفد میں شامل نہیں۔ انس حقانی بگرام ایئربیس پر قید ہیں اور طالبان نے مذاکراتی وفد میں انس حقانی کا نام ان کی رہائی کیلئے دباؤ بڑھانے کی غرض سے شامل کیا تھا۔

امریکہ کے زلمے خلیل زاد پیر کو دوحہ پہنچے۔انہوں نے اپنی ٹویٹ میں قطرکو مذاکرات کی میزبانی کرنے اور پاکستان کو سفری سہولیات فراہم کرنے پر سراہنے کا مشورہ بھی دیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 18 فروری کو طالبان وفد نے پاکستان میں امریکی یا سعودی حکام کے ساتھ مذاکرات سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ عالمی پابندیوں کے باعث وہ پاکستان تک سفر نہیں کر سکتے۔

زلمے خلیل زاد نے اپنی ٹوئیٹ میں نہایت باریکی سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ طالبان کو قطر تک پہچنے میں پاکستان نے سفری سہولیات فراہم کی ہیں۔

زلمے خلیل زاد کامزید کہنا تھا کہ اوراب سیجندگی سے کام شروع ہونے لگا ہے۔

ادھر بعض اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ طالبان نے کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد کابل انتظامیہ سے مذاکرات کیے جائیں گے۔

منگل سے شروع ہونے والے طالبان امریکہ مذاکرات کے دوران فریقین گزشتہ سیشن میں طے پائے گئے فریم ورک اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر بھی بات چیت ہو گی۔امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں افغان سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔

ایک نظر ادھر بھی

تبصرے بند ہیں.