نیوزی لینڈ دہشتگردی۔حملہ آور کے 2018 میں پاکستان آنے کا انکشاف

نیوزی لینڈ مں دہشت گردی کرنے والے سفاک آسٹریلین دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے گزشتہ سال 2018 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے والا دہشتگرد برینٹن ٹیرنٹ 2011 کے بعد سے دنیا کے مختلف ممالک میں گھومتا رہا ہے۔

اس نے بٹ کوئین کی فروخت سے حاصل ہونے والے پیسوں سے شمالی کوریا، پاکستان ، جنوب مشرقی ایشیا، مشرقی ایشیا اور یورپ کا ٹور کیا۔ اس نے گزشتہ برس پاکستان کے بارے میں فیس بک پر ایک پوسٹ بھی کی تھی۔

آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) نیوز کی رپورٹ میں شائع کی گئی تصویر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ کی یہ تصویر 2018 میں پاکستان کے کسی مقام سے لی گئی تھی۔

سفاک حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے2018 میں شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا تھا اس نے فیس بک پر کئی تصاویر بھی شیر کی تھیں اور پاکستان مین اچھی مہمان نوازی کی بہت تعریف کی تھی۔

سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ نے آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں واقع ’ بگ ریور جم ‘میں ٹرینر کے طور پر کام کیا تھا۔

جم کی منیجر ٹریسی گرے نے بتایا کہ گزشتہ برس فیس بک پر بھیجے گئے پیغام میں برینٹن ٹیرنٹ نے پاکستان کے دورے کا احوال بتایا تھا کہ یہ دنیا کے سب سے زیادہ مہمان نواز اور رحم دل افراد سے بھر پور حیران کن مقام ہے۔

حملہ آور نے کہا تھا کہ خزاں میں وادی ہنزہ اور نگر کی خوبصورتی کو مات نہیں دی جاسکتی۔

اس کے علاوہ حملہ آور سے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی ایشیا کا دورہ کرچکا ہے۔

حملہ آور کے بچپن کی تصویر،والد نے کود میںاٹھا رکھا ہے۔فائل فوٹو
حملہ آور کے بچپن کی تصویر،والد نے گود میں اٹھا رکھا ہے۔فائل فوٹو

حملہ آور بیرون ملک سفر کے دوران شمالی کوریا بھی گیا جہاں سامجیون گراؤنڈ مونومینٹ میں ٹور گروپ کے ساتھ اس کی تصاویر موجود ہیں۔

جم منیجر کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ ہر لحاظ سے ایک بہترین فٹنس انسٹرکٹر تھا جو لوگوں کی مدد کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں مان سکتی کہ ایک ایسا شخص، جس کے ساتھ میں نے بات چیت کی، کام کیا وہ ایسا انتہائی قدم اٹھاسکتا ہوگا۔

  1. hammad-ur-rehman کہتے ہیں

    if the muslims of the whole world(specially the pakistanies)really feel the pain of the innocent muslims of the different regions,then they must have the the cultural boycott of all non-muslim nations.let me to clarify that the cultural boycott is a powerful & the effective optional weapon ,if compares with the option of the products boycott.being the muslims,we must clear our lives from the likeness & actings of the non muslim nations

تبصرے بند ہیں.