عدالت پیشی پر سفید فام دہشت گرد نشان بناتا رہا

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں 49 نمازیوں کے قتل کے جرم میں پولیس نے چار افراد کو حراست میں لیا تاہم ان میں سے صرف ایک برینٹن پر ہی تمام افراد کے قتل کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ دیگر ملزمان میں ایک پر مجرمانہ عزائم رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

پولیس نے چار میں سے ایک کو پہلے ہی بے گناہ قرار دے دیا تھا جبکہ ملزمان میں شامل ایک عورت کے خلاف فوری طور پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

نیوزی لینڈ کی پولیس نے ہفتہ کی صبح برینٹن کو مقامی عدالت میں پیش کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق پیشی کے دوران دہشت گرد مسکرایہ اور اس نے انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر سفید فاموں کی بالادستی کا نسل پرستانہ نشانہ بنایا۔

پولیس نے اپنی فردجرم میں کہا ہے کہ برینٹن نے ہی مسجد النور میں پہلے 41 نمازیوں کو شہید کیا اور پھر وہاں سے لنوڈ مسجد پہنچا جہاں اس نے مزید 8افراد قتل کیے۔

پیشی کے موقع پر عدالت میں لوگوں کے داخلے پر پابندی تھی۔

نیوزی لینڈ کے میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے زبردستی عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس کا کہنا تھا کہ وہ قاتل کو چاقو گھونپنا چاہتا ہے اور اس نے صحافیوں کو چاقو دکھایا بھی۔

عدالت نے سفید فام دہشت گرد کا ریمانڈ دے دیا ہے۔ اس کے وکیل نے ضمانت کی کوئی درخواست نہیں دی۔

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.