شہدائے کرائسٹ چرچ سے یکجہتی کیلئے کیوی فٹبال کا میدان میں سجدہ

کرائسٹ چرچ کے شہدا اور مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کے لیے نیوزی لینڈ کے ایک غیرمسلم فٹ بالر نے حریف ٹیم کے خلاف گول کرنے کے بعد روایتی جشن منانے کے بجائے میدان میں ہی سجدہ کیا۔

کوسٹابارباروسز کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ کو انڈہ مارنے والے لڑکے ول کونلی کے بعد وہ دوسرے ایسے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں جنہوں نے مسلمان مخالف دہشت گردی کے خلاف کھل کر اظہار کیا ہے۔

آسٹریلوی سینیٹر کو انڈہ مارنے والا لڑکا کون-انجام کیا ہوا

ملیبورن کے مارول اسٹیڈیم میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب فٹ بال میچ کے 24 ویں منٹ میں کوسٹا باربروسز نے مخالف ٹیم کے خلاف گول کیا۔ گول کرنے کے بعد وہ کچھ دوڑے اور پھر ہزاروں تماشائیوں کے سامنے سجدے میں چلے گئے۔

کوسٹا بارباروسز
کوسٹا بارباروسز

میچ کے بعد فوکس اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کوسٹا نے کہاکہ ان کی جانب سے سجدہ شاید متاثرین کیلئے کوئی زیادہ معنے نہ رکھتا ہو، لیکن اس میں کچھ ہے۔

فٹ بالر کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ میں جو ہوا اس نے انہیں دہلا کر رکھ دیا ہے، وہ بہت جذباتی ہو رہے ہیں۔

کوسٹا نے ٹوئٹر پر بھی لکھا کہ میری دعائیں اس سانحے میں اپنی جانیں گنوا دینے والے افراد اور ان کے پیاروں کے ساتھ ہیں، یہ ہماری تاریخ کا بہت افسوسناک دن تھا۔

کوسٹا بارباروسز نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن میں ہی پیدا ہوئے۔ ان کے والدین یونانی نژاد ہیں۔ وہ آسٹریلیوی فٹبال کلب میلبورن وکٹری کیلئے کھیلتے ہیں۔ جس میچ میں کوسٹا بارباروسز نے سجدہ کیا وہ آسٹریلیا میں جاری پریمیئر اے لیگ کا حصہ تھا۔

کوسٹا نے بعد ازاں اپنے سجدے کی تصویر انسٹاگرام پر بھی شیئر کی۔

دنیا بھر سے مسلمان سوشل میڈیا صارفین نے نیوزی لینڈ کے فٹ بالر کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

سیدہ صبا نے لکھا کہ ’’حیران ہوں کہ دنیا میں انسانیت ابھی باقی ہے۔ نیوزی لینڈ میں ایک غیرمسلم فٹ بالر کرسٹا بارباروسز نے کرائسٹ چرچ میں قتل کیے گئے مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سجدہ کیا ہے۔‘‘

انڈونیشیا کے کئی لوگوں نے کوسٹا کے لیے احترام اور محبت کا اظہار کیا۔

تبصرے بند ہیں.