وزیراعظم نے سندھ سے 2 ہندو لڑکیوں کےاغوا کا نوٹس لے لیا۔ایک شخص گرفتار

وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے 2 نوعمر ہندو لڑکیوں کےاغوا کا نوٹس لیتے ہوئے بچیوں کی بازیابی کے لیے سندھ اور پنجاب حکومت کو مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

رحیم یار خان منتقلی کی اطلاعات پر وزیراعلی پنجاب کو بھی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ دوسری طرف ہندو لڑکیوں نے خان پور میں اسلام قبول کر لیا، نکاح بھی کیا، پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلٰی کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ سندہ سے اغوا ہونے والی 2 نو عمر ہندو لڑکیوں کے بارے میں ایسی اطلاعات ہیں کہ انہیں رحیم یار خان منتقل کیا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ  اس معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور اگر ایسا ہے تو بچیوں کو بازیاب کرایا جائے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سندھ اور پنجاب حکومت کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں اور سندھ حکومت ایسے واقعات کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتیں ہمارے قومی پرچم کا سفید رنگ ہیں اور ہمیں اپنے تمام رنگ عزیز ہیں، اپنے پرچم کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

دوسری طرف ڈہرکی سے لاپتہ ہونیوالی ہندو لڑکیوں نے رحیم یارخان کے علاقے خان پور میں اسلام قبول کر لیا جس کے بعد انہوں نے نکاح کیا۔

خبر یہ بھی ہے کہ دونوں لڑکیوں نے تحفظ کے لئے عدالت سے رجوع بھی کیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے پر ایک شخص کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

چند روز پہلے ہندو لڑکیوں کے اہلخانہ نے سندھ پنجاب بارڈر پر احتجاج کیا تھا ،لڑکیوں کے مبینہ اغوا کا مقدمہ سندھ میں بھی درج ہے۔

تبصرے بند ہیں.