آرمی چیف پر عمران خان کا جملہ کس نے سنسر کرایا؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کو توسیع دینے یا نہ دینے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دیا گیا ایک اہم بیانات بیشتر پاکستانی اخبارات نے نمایاں کرنے سے گریز کیا ہے جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے زیادہ تر بھارت کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے بات کی تاہم جب ان سے آرمی چیف کو توسیع دینے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو عمران خان نے مسکراتے ہوئے کہاکہ نومبر ابھی بہت دور ہے، اس حوالے سے سوچا نہیں ہے۔

اسی انٹرویو میں عمران خان نے نیب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ نئے مقدمات کھولنے کے بجائے مخصوص مقدمات پر توجہ دے۔ انہوں نے کالعدم تنظیمیں قبول نہ کرنے کی بات بھی کی تھی۔

اتوار کو پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے آرمی چیف کے حوالے سے عمران خان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ماسوائے ایک انگریزی اخبار کے کسی ’’میڈیا آئوٹ لٹ‘‘ (اخبار یا ٹی وی چینل) نے اس بیان کو رپورٹ نہیں کیا اور انگریزی اخبار نے بھی صحفہ پانچ کے آخر میں اس کا ذکر کیا۔

فرحت اللہ بابر نے اسے غیراعلانیہ سنسر شپ قرار دیا۔

انگریزی اخبار ڈان کے سابق ایڈیٹر اور سینئر صحافی عباس ناصر نے بعدازاں ٹوئٹر پر لکھا کہ جمعرات کو ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں کے ساتھ وزیراعظم کی گفتگو کو سسنر کیا گیا، ان کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف کی ممکنہ توسیع اور پاکستان میں دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے بنا لگی لپٹی گفتگو نے کچھ لوگوں کو بے چین کردیا۔ ایک ایڈیٹر جس نے گفتگو کا وہ حصہ اپنی رپورٹ میں سے حذف کیا اس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے اعلیٰ مشیروں میں سے ایک نے اس سے رابطہ کیا تھا۔‘‘

عباس ناصر کے مطابق مذکورہ مشیر نے بقول ان کے مقتدر حلقوں کی (بیان شائع نہ کرنے کی )خواہش صحافیوں تک پہنچائی۔ تاہم ڈان کے سابق ایڈیٹر نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی مقتدر حلقے چاہتے تھے کہ بیان نہ چھپے یا وزیراعظم کی ٹیم انہیں بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے اور الزام مقتدر حلقوں پر ڈال رہی ہے۔

واضح رہے کہ فرحت اللہ بابر کی بات جزوی طور پر ہی درست ہے۔ آرمی چیف کے حوالے سے وزیراعظم کا بیان ایک سے زائد اخبارات نے شائع کیا، یہ الگ بات ہے کہ اسے نمایاں نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ سے ہی ایک حساس معاملہ رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے تینوں ادوار میں فوج سے ان کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔

اگرچہ عمران خان اور ملک کی عسکری طاقت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک پیج پر ہیں لیکن ماضی میں جنرل ضیا الحق اور ان کے اپنے منظور نظر وزیراعظم محمد خان جونیجو کے تعلقات بھی بعد میں ناہموار ہوگئے تھے۔

فوجی سربراہان کی توسیع بھی ایک اہم معاملہ رہا ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی توسیع پر کافی خبریں شائع ہوئی تھیں۔ اسی طرح ان کے پیشرو جنرل اشفاق پرویز کیانی کو کافی قیاس آرائیوں کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت ںے توسیع دی تھی۔

تاہم موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ گذشتہ برس مارچ میں کہہ چکے ہیں کہ وہ وقت پر ریٹائر ہوں گے اور توسیع لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

تبصرے بند ہیں.