مذہب تبدیلی کیلئے بھارتی مسلمانوں پر تشدد کی ویڈیوز

پاکستان میں سوشل میڈیا پر منگل کی شب سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں بھارت میں ایک مسلمان کو انتہا پسند ہندوؤں نے بجلی کے کھمبے سے باندھ رکھا ہے۔ اسے ’جے شری رام‘ بولنے کیلئے کہہ رہے ہیں اور اس  کا مذہب بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستانیوں نے اس ویڈیو پر بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کو ٹیگ کیا ہے جنہوں نے سندھ میں دو ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کو جبری قرار دیتے ہوئے اس پر اپنے ہائی کمشنر سے رپورٹ مانگنے کا اعلان کیا تھا۔

صحافی حامد میر نے بھی یہ ویڈیو ری ٹوئیٹ کی اور لکھا کہ آپ پاکستان میں ایسا ہوتے کبھی نہیں دیکھیں گے۔

امت کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو 2015 کی ہے تاہم بھارت میں صورت حال اب  بھی ویسی ہی ہے اور مسلمانوں کو پکڑ کر ان سے جے شری رام بلوانے یا ان کا مذہب بدلوانے کی یہ واحد ویڈیو نہیں۔ اس کے بعد بھی ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔

جو ویڈیو منگل کو وائرل ہوئی اس کے حوالے سے خبر مارچ 2015 میں ڈیلی بھاسکر نے اپنی ویب سائیٹ پر شائع کی تھی۔ اصل ویڈیو بھارتی شہری اور کانگریس کے حامی گورو پاندھی نے یوٹیوب پر شیئر کی تھی جو بعد میں ہٹا لی گئی۔

منگل کو سوشل میڈیا صارف دانیال یوسف نے یہ ویڈیو شیئر کی جو وائرل ہوگئی۔

ویڈیو میں ایک مسلمان نوجوان کو کھمبے سے باندھ کر ہندو اس پر تشدد کر رہے ہیں اور اس سے جے شری رام بلواتے ہیں۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ ہندو بنے گا۔ وہ اقرار کر لیتا ہے۔

اگرچہ ویڈیو کس جگہ کی ہے یہ واضح نہیں ہوسکا۔ تاہم 2016 میں جب ایک بار پھر یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو بھارتی ویب سائیٹ انڈیا ڈاٹ کام نے دیگر ایسے دو واقعات کے بارے میں بتایا۔ ان میں سے ایک واقعے میں دہلی میں مدرسے کے ایک طالب علم پر تشدد کرکے اسے ’جے شری رام‘ کہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ دوسرے واقعے میں جھاڑکھنڈ میں مویشیوں کے دو تاجروں کو درختوں سے لٹکا کر ان پر تشدد کیا گیا۔

فروری 2018 میں راجستھان کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی جس میں ایک ہندو انتہا پسند نوجوان ایک بزرگ مسلمان شخص کو باندھ کر اسے تھپڑ مارتا ہے اور جے شری رام بولنے کیلئے کہتا ہے۔ اس نوجوان نے ویڈیو میں خود اپنی شناخت وجے کمار مینا کے نام سے ہوئی تھی جسے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ تشدد  کے باوجود بزرگ نے جے شری رام کہنے سے انکار کردیا۔

گرفتاری کے بعد وجے کمار مینا نے معافیاں مانگی اور کہا کہ وہ نشے میں تھا، آئندہ غلطی نہیں ہوگی۔ پولیس نے بزرگ شہری پر تشدد کرنے والے ہندوتوا دہشت گرد کو معافی کی بنیاد پر چھوڑ دیا تھا۔ 6 فروری کو وجے کمار گرفتار ہوا تھا۔ 31 مارچ کو اس نے ایک ویڈیو یوٹیوب پر ڈالی جس میں وہ زعفرانی لباس میں ایک تقریب میں شریک ہے اور گانا چل رہا ہے ’بھارت کا بچہ بچہ جے شری رام بولے گا۔‘

2017 میں بھارت کے معروف این ڈی ٹی وی سے وابستہ مسلمان صحافی اطہرالدین بھارتی کو بجرنگ دل کے ہندو انتہا پسندوں نے بہار میں گھیر لیا اور اسے جے شری رام کہنے کیلئے کہا۔ نہ کہنے پر اس کی گاڑی کو آگ لگانے کی دھمکی دیتے رہے۔ گاڑی میں اطہرالدین کی برقع پوش اہلیہ اور والدین بھی موجود تھے۔ اطہر الدین کے مطابق انتہا پسند پہلے ہی کچھ گاڑیاں جلا کر آئے تھے۔ اس نے اور اس کے اہلخانہ نے جے شری رام کے نعرے لگا کر اپنی جانیں بچائیں۔ یہ خبر دیگر نشریاتی اداروں کے علاوہ بی بی سی نے بھی نشر کی تھی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

تبصرے بند ہیں.