امام کعبہ کی وزیراعظم، صدر اور آرمی چیف سے الگ الگ ملاقاتیں

امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجوہانی نے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اور صدر مملکت عارف علوی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی امام کعبہ سے ملاقات میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری بھی موجود تھے۔

اس موقع پر امام کعبہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان صرف سفارتی تعلقات ہی نہیں بلکہ ان کی بنیاد مذہب پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی سیکیورٹی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے، دونوں ممالک کے دل ساتھ دھڑکتے ہیں۔

صدر مملکت نے امام کعبہ سے ہونے والی ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک میں تاریخ، ثقافت اور مذہب پر مبنی گہرے اور دوستانہ تعلقات ہیں۔

صدر مملکت عارف علوی سے امام کعبہ اور دیگر ملاقات کر رہے ہیں
صدر مملکت عارف علوی سے امام کعبہ اور دیگر ملاقات کر رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دورے کے دوران پاکستانیوں کے دل جیت لیے، پاکستانی حجاج اور زائرین کے حوالے سے سعودی تعاون کے شکر گزار ہیں۔

عارف علوی نے کہا کہ پاکستانی حاجیوں کا کوٹہ دو لاکھ تک کرنے کا سعودی فیصلہ خوش آئند ہے۔

ملاقات کے دوران امام کعبہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذہب کی بنیاد پر مضبوط تعلق قائم ہے، پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے، دونوں ملکوں کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی نے ملاقات کی ، اس موقع پر پاک سعودی عرب برادرانہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیا ل کیا گیا ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امام کعبہ ملاقات کر رہے ہین
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امام کعبہ ملاقات کر رہے ہین

آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی نے آرمی چیف سے ملاقات میں خطے میں امن واستحکام کیلیے پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کے اندر بلند مقام پر فائز ہے ۔

دریں اثناآرمی چیف سے اردن کے چیف آف سٹاف سٹریٹیجک پلاننگ نے بھی ملاقات کی ، اس موقع پر باہمی دلچسپی کے پیشہ وارانہ امور، دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔

عسکری سربراہان نے مسلح افواج کے درمیان تربیت کے شعبے میں تعاون کے فروغ جبکہ پاک اردن افواج میں انسداد دہشتگردی کے شعبے میں بھی تعاون میں اضافے کیلیے اتفاق کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.