میں 2 سال بھی رہاتو یہ سب جیل میں ہوں گے۔عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے جب سے ہماری حکومت آئی ہے سارے مل کر کہتے ہیں حکومت فیل ہو گئی، ابھی 8 مہینے ہوئے ہیں، کیا اتنا بڑا جرم کیا ہے کہ حکومت ہٹا رہے ہیں، جمہوریت نہیں چوری کا پیسہ خطرے میں آگیا ہے، ان کو ڈر ہے عمران خان 2 سال بھی رہے گا  تو یہ سب جیل میں ہوں گے کیوں کہ ہرروز ان کی کرپشن کی داستانیں آرہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے 10 سال حکمرانی کی اور چوری کی اور ملک کو لوٹا، آج سے 10 سال پہلے ملک پر6ہزار ارب روپے کا قرضہ تھا، 6 ہزار ارب سے ملک پرقرضہ 10 سال میں 30 ہزار ارب کر دیا گیا، 3 گھرانوں نے چوری کرنا شروع کی، صرف ایک دن سود کی مد میں 6 ارب سے زیادہ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اللہ کو جواب دہ ہوں اور اللہ  مجھ سے چاہتاہے کہ میں اپنے ملک کے کمزور لوگوں کو اوپر اٹھاﺅں اور یہی میرا مقصد ہے ، ابھی بھی میں نے اپنی ٹیم کے اندر بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا ہے اور میں آگے بھی کروں گا

ان کا کہناتھا کہ میں سارے وزیروں سے کہنا چاہتاہوں کہ جو وزیر میرے ملک کیلیے فائدہ مند نہیں ہو گا میں اسے تبدیل کروں گا اور اس کی جگہ اس وزیر کو لے کر آئوں گا جو میرے ملک کیلیے فائدہ مند ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کپتان کو میچ جیتنے کیلیے بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

زیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ ایک نئی تنظیم پی ٹی ایم بنی ہے جوکہ پٹھانوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے وہ ٹھیک بات کرتی ہے لیکن ان کا لہجہ پاکستان کیلئے ٹھیک نہیں ہے ، اس وقت جو لوگ تکلیف سے گزرے ہیں ان کو فوج کے خلاف کرنا ، اس طرح کے نعرے مارنا،اس سے پاکستان اور قبائلی علاقے کو فائدہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے  اورکزئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے میں لوگوں کا اس شاندار استقبال کا دل سے شکریہ ادا کرتاہوں ، میں 27 سال پہلے اس علاقے میں اس وقت آیا تھا جب میں اس پر کتاب لکھ رہا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ سارے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی ایجنسیوں میں گھوما اور کتا ب لکھی، اس لیے جب یہ دہشتگردی کیخلاف جنگ شروع ہو ئی تو میں وہ واحد پاکستانی سیاستدان تھاجو سارے قبائلی علاقوں میں گھوما ہوا تھا اور ان کو جانتا بھی تھا لہذا میں نے بار بار کہا کہ پاکستان کی فوج کو امریکہ کے کہنے پر قبائلی علاقے میں نہ بھیجا جائے ، میں نے یہ اس لیے کہا کیونکہ قبائلی علاقے کے لوگ ہی ہماری فوج تھی ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ بد قسمتی سے اس وقت کے حکمران کو قبائلی علاقے کا پتا تھا،اس علاقے کی روایتوں کا اور نہ ہی وہ قبائلی علاقے کی تاریخ کو جانتا تھا ، لہذا جو ہمارے قبائلی علاقے میں ہوا اس کے بارے میں باہر کے لوگوں کو نہیں پتا کہ یہاں کتنی تباہی مچی ، میں مسلسل اس کے خلاف بولتا رہا ، اس میں پاکستانی فوج کا قصور نہیں تھا بلکہ اس حکمران کا تھا جس نے امریکہ کے کہنے پر قبائلی علاقے میں فوج کو بھیجا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے جوان بھی شہید ہوئے اور قبائلی علاقے کے لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بہت کم لوگوں کو پتا ہے ، لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی، میں جانتا ہوں کہ کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ آج میں سارے قبائلی علاقوں میں کیوں گھوم رہاہوں ، کوئی پاکستان کا وزیراعظم اتنے قبائلی علاقوں میں نہیں گیا ،جتنا میں جا رہاہوں ، کیونکہ کسی اور وزیراعظم کو ایسی قبائلی علاقے کی سمجھ نہیں جو مجھے ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی اپنی ٹیم پر نظر رکھیں ، ہم اللہ کو جواب دہ ہیں ، یہ بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جب اللہ آپ کو ملک یا صوبے کا سربراہ بناتا ہے ، وہ دیکھتا ہے ۔ اس لیے ہمارے اوپر ذمے داری آتی ہے کہ ہم بھی مسلسل اپنی ٹیم پر نظرر کھیں اوراگر کوئی بھی کھلاڑی ٹھیک پرفارمنس نہیں دے رہا ہے تو اس کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کریں یا تبدیل کر کے نیا کھلاڑی لے کر آئیں۔

تبصرے بند ہیں.