غلط انجکشن لگنے سے مفلوج ہونے والی کمسن بچی نشوا دم توڑ گئی

غلط انجکشن لگنے سے دماغی طور پر مفلوج ہونے والی کمسن بچی نشوا انتقال کرگئی۔

کراچی کے اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال میں زیر علاج کمسن بچی نشوا چل بسی جب کہ اسپتال کے ترجمان نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بچی کا دماغ 71 فیصد مفلوج ہو چکا تھا۔

9 ماہ کی نشوا کو 6 اپریل کو گلستان جوہر کے نجی اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں غلط انجکشن لگنے سے وہ دماغی طور پر مفلوج ہوگئی تھی۔

غلط انجکشن کا معاملہ سامنے آنے کے بعد بچی کو 13 اپریل کو اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب نشوا کوغلط انجکشن لگانے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہے اور اس سلسلے میں اسپتال کے ایڈمن اور نرسنگ انچارج سے پولیس حراست میں تفتیش کی جارہی ہے جب کہ اسپتال مالک عامر چشتی کو بھی تفتیشی افسران نے ایک اور نوٹس بھیج دیا۔

اندراج مقدمہ کے دوران نشویٰ کے والد کو دھمکیاں دینے پر ایس پی طاہر نورانی پہلے ہی اپنے عہدے سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نشواکے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، اس سے قبل انہوں نے اسپتال جا کر نشویٰ کی عیادت بھی کی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نشوا کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، اس سے قبل انہوں نے اسپتال جا کر نشویٰ کی عیادت بھی کی تھی۔

ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ نشواکے بیرون ملک علاج کے لیے پلان بنایا تھا، دعا ہے اللہ پاک بچی کے والدین کو صبرعطا کرے، نشوا کے والدین کے ساتھ انصاف ہوگا۔

غلط انجیکشن سے جاں بحق ہونے والی کمسن نشواکے والد قیصرعلی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بچی کے قاتلوں کو معاف نہیں کریں گے۔

مرحوم نشوا کی میت اسپتال سے گھر لانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے قیصر علی نے کہا کہ اسپتالوں میں غفلت نہ برتی جائے، اپنی بچی کے قاتلوں کو معاف نہیں کروں گا۔

غم سے نڈھال والد نے کہا کہ سیاسی لوگ آتے رہیں گے پر اس غفلت پر کارروائی ہونی چاہیے۔

تبصرے بند ہیں.