سری لنکن حکومت نے ایک اسلامی تنظیم کو حملوں میں ملوث قرار دیدیا

سری لنکا کی حکومت نے ایسٹر سنڈے کے موقع پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں ایک مقامی تنظیم ‘نیشنل توحید جماعت’ کے ملوث ہونے کا اشارہ دیا ہےتاہم ابھی تک کسی گروپ نے حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

سری لنکا کی حکومت کے ترجمان راجیتھا سینا رتنے نے کہا ہے کہ ایسٹر سنڈے کے موقع پرہونے والے حملوں میں مبینہ طور پر مقامی تنظیم نیشنل توحید جماعت ملوث ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاران حملوں کے لیے اس تنظیم کو ملنے والی ممکنہ بین الاقوامی مدد کی چھان بین کر رہے ہیں۔

سری لنکا میں حکام نے کہا ہے کہ اتوار کو ہونے والے یہ حملے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کی مدد سے کیے گئے ہیں۔ حکومت نے ان حملوں کے لیے ایک غیر معروف مقامی جہادی گروپ ’قومی توحید جماعت‘ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

پولیس نے ان حملوں کے سلسلے میں 24 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم مذہبی اور نسلی تناؤ کے خدشات کے پیش نظر گرفتار شدگان کے حوالے سے تفصیلات اب تک جاری نہیں کی گئی ہیں۔

حکومت نے کہا ہے کہ پیر کی رات سے ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ ہو جائے گا۔ دریں اثنا ملک کے دارالحکومت کولمبو میں پیر کو ایک گرجا گھر کے قریب ایک اور دھماکہ ہوا۔ اس حملے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

بین الاقومی خبر رساں ادارے  نے کچھ دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ سری لنکا کے پولیس سربراہ نے گیارہ اپریل کو ایک انتباہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ‘غیرملکی خفیہ ادارے’ سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق یہ تنظیم ملک کے مختلف گرجاگھروں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

سینا رتنے کا مزید کہنا تھا، ”ہم نہیں سمجھتے کہ سری لنکا کی ایک چھوٹی سی تنظیم اس سطح کے بڑے حملے کر سکتی ہے۔” برسلز میں قائم ساؤتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم کے جنوبی ایشائی امور کے ماہر زیگفریڈ او وولف نے  کہا، ”ہم نیشنل توحید جماعت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، مگر لگتا یوں کہ یہ تنظیم القاعدہ سے متاثر ہے۔”

سری لنکا میں سب سے بڑی اکثریت بدھ مت کے پیروکاروں کی ہے، جب کہ وہاں قریب چھ فیصد مسیحی اور دس فیصد مسلمان آباد ہیں۔

تبصرے بند ہیں.