سرکاری اسپتال میں لڑکی کی ہلاکت۔ تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل

کراچی کے علاقے کورنگی سرکاری اسپتال میں لڑکی کی ہلاکت کے معاملے پر تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق عصمت کی ہلاکت پر بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ایس ایس پی کورنگی علی رضا ہوں گے۔

کمیٹی میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن، ڈی ایس پی لانڈھی، ایس ایچ او ابراہیم حیدری اور ایس آئی او عوامی کالونی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق عصمت کی ہلاکت پر درج مقدمے میں نامزد ملزم ڈاکٹر ایاز عباسی تاحال گرفتار نہ ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار تین ملزمان کے ڈی این اے کے لئے حاصل شدہ نمونے کل جامشورو روانہ کئے جائیں گے جبکہ سیکریٹری ہیلتھ کی سربراہی میں سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم بھی واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ سینئیر ڈاکٹرز کی ٹیم نے ڈاکٹر ایاز عباسی کو تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر معطل  بھی کر دیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کیمیکل ایگزامن اور ڈی این اے رپورٹس آنے تک عصمت کی وجہ موت کا تعین نہیں۔

ابراہیم حیدری میں سماجی تنظیموں اور رہائشیوں نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے عصمت کے قاتلوں کوعبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ فوٹو: حفیظ تونیو

ابراہیم حیدری میں سماجی تنظیموں اور رہائشیوں نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے عصمت کے قاتلوں کوعبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے.

 عصمت دری کے بعد انجیکشن کے ذریعے قتل کی جانے والی 26 سالہ لڑکی عصمت کے قاتلوں کی گرفتاری اور سزا دینے کے لیے ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ اور ملحقہ علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ سول سوسائٹی سمیت مقامی افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین کا  کہنا تھا کہ ابراہیم حیدری کی  26 سالہ عصمت خانیجو گزشتہ ہفتے دانت کے درد کی شکایت لے کر کورنگی میں واقع سندھ گورنمنٹ ہسپتال گئی جہاں اسے مشکوک انجیکشن لگایا گیا اور وہ جاں بحق ہوگئی ۔ اس سے قبل عصمت کی آبروریزی بھی کی گئی تھی جس میں ہسپتال انتظامیہ کے افراد ملوث تھے۔

عصمت کے اہلِ خانہ نے حکومت سے اس ضمن میں فوری انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے اس قبیح جرم میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

احتجاج کے دوران ٹریفک کم رہا جبکہ دکانیں اور بازار بند رہے۔ اس موقع پر کراچی فِشر فوک کے سربراہ محمد علی شاہ نے کہا کہ حکومت اس واقعے کی تحقیقات کرکے ملوث افراد کو عبرتناک اور مثالی سزا دے۔ لوگوں نے بتایا کہ عصمت ایک باہمت لڑکی تھی جو والدین کی کفالت بھی کررہی تھی۔

مظاہرے میں شریک ایک اور سماجی کارکن قرات مرزا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا، ’ آپ اندازہ نہیں لگاسکتے کہ اس کے اہلِ خانہ کو کس صورتحال کا سامنا ہے۔ لڑکی صرف دانت کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال گئی تھی جبکہ واپس اس کی لاش آئی۔‘

قرات مرزا نے کہا کہ عصمت کو نشہ آور دوا پلائی گئی اور اس کی آبروریزی کی گئی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ظاہر ہے کہ یہ طبی غلطی کا کیس نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم میں ریپ کا انکشاف ہوا ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.