حکومت کا زائد قیمت پر ڈالر فروخت کرنیوالی کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

حکومت نے مارکیٹ سے زائد قیمت پر ڈالر فروخت کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کے روز ڈالرکی قیمت 146 روپے 25 پیسے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی لیکن کرنسی مارکیٹ بند ہونے سے پہلے قیمت میں دو روپے کمی آئی۔

ڈالر کی قیمت میں اچانک اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت نےکرنسی ریٹ سے متعلق اہم اجلاس طلب کیا تھا جس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بھی آر، گورنر اسٹیٹ بینک اور ڈی جی ایف آئی اے بھی شریک ہوئے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کرنسی مارکیٹ میں ڈالرکی قیمت خرید 143.50 اور قیمت فروخت 144 روپے ہے۔

عمران خان نے کہا کہ  کسی ایکسچینج کمپنی کو طے شدہ کرنسی ریٹ سے انحراف کرنے کی اجازت  نہیں دی جائے گی اور ایسا کرنے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں درج ہے کہ پاکستان کا مرکزی بینک ڈالر کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے برابر طے کرے گا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بیل آؤٹ پیکج پر اتفاق ہونے کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ معیشتوں کی درجہ بندی کرنے والے ادارے موڈیز نے بھی پیش گوئی کر رکھی ہے کہ رواں سال کے اختتام تک پاکستان میں ڈالر کی قیمت 148 تک جاسکتی ہے۔

واضع رہے کہ بدھ کے روز ڈالرکی قیمت 146 روپے 25 پیسے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی۔

تبصرے بند ہیں.