انڈونیشیا میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔6افراد ہلاک،200زخمی

انڈونیشیا میں صدارتی انتخابات میں صدر جوکو ویدودو کی ایک بار پھر کامیابی پر ہنگامے پھوٹ پڑے اور مخالف امیدوار کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں 6 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی  خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ویدودو 55.5 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوگئے، صدر ویدودو کی کامیابی کے اعلان کے بعد مخالف امیدوار پرابوو سبنتو کے ہزاروں حامیوں نے الیکشن کمیشن کا گھیراؤ کیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

اپوزیشن امیدوار کے مشتعل حامیوں کی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں 6 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے،  پولیس نے مظاہرین کو اسلحہ فراہم کرنے والے خصوصی فورس کے سابق کمانڈر سمیت 20 افراد کو گرفتار کرلیا۔

احتجاج کے باعث دارالحکومت جکارتہ میں کاروباری سرگرمیاں معطل، تعلیمی ادارے بند اور ٹرین کی آمدورفت ملتوی کردی گئی ہیں، شہر بھر میں فوج کے 30 ہزار اہلکار تعینات ہیں جس کے باعث دارالحکومت جکارتہ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ صدر جوکو ویدودو 2014 میں ملک کے ساتویں صدر منتخب ہوئے تھے، اس سے قبل وہ جکارتہ کے گورنر رہے اور قبل ازیں سوراکرتا کے میئر کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیئے۔ جوکو ویدودو اپنے مخالفین کے برعکس متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور فوجی یا سیاسی گھرانے سے تعلق نہ رکھنے والے واحد صدر ہیں۔

تبصرے بند ہیں.