چیئرمین نیب کیخلاف ویڈیو اسکینڈل میں منظم گروہ کےملوث ہونے کا انکشاف

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف ویڈیو اسکینڈل میں منظم گروہ ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس گروہ کے ہاتھوں متاثرہ افراد سردار اعظم رشید، صبا حامد، شمشاد جہان نے انکشاف کیا کہ چیرمین نیب کی وڈیو بنانے والے گروہ کے کارندے طیبہ گل اور اس کا خاوند فاروق نول ہیں، گروہ میں خواتین سمیت پولیس،آئی بی، سی آئی اے، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کے افسران ملوث ہیں۔

سردار اعظم رشید نے کہا کہ یہ گروہ اغوا، زمینوں پرقبضے اور جعلی ویزا پر بیرون ملک بھیجنے کا کام کرتے ہیں۔

سردار اعظم رشید نے  کہا کہ یہ گروہ لوگوں سے اب تک کروڑوں کا فراڈ کرچکا ہے، اس کے بعد متاثرہ افراد کے خلاف ایف آئی آر کٹوا کر بلیک میل کرتے ہیں، پھر ان کے بچوں کو اغوا کرکے ڈرا کر ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں روپے ہتھیاتے ہیں۔

متاثرین نے بتایا کہ طیبہ گل اورفاروق کے پاس جدید سسٹم ہے جو واٹس ایپ ویڈیوز بناتے ہیں، لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں، چیرمین نیب کی وڈیو جعلی ہے اور انہیں ٹریپ کیا گیا،  اس گروہ کے مختلف سیاستدانوں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔

دوسری جانب نیب نے نجی ٹی وی پر چیئرمین نیب کے حوالے سے نشر ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی، من گھڑت، اور پراپیگنڈا قرار دیا۔

ترجمان نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دباؤ اور بلیک میلنگ کو پس پشت رکھتے ہوئے گروہ کے دو افراد کو گرفتار کیا، دونوں کے خلاف ریفرنس کی منظوری دی گئی۔ بلیک میلر گروپ کے خلاف بیالیس ایف آئی آرز درج ہیں۔

ترجمان کے مطابق بلیک میلر گروپ کا سرغنہ فاروق اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے۔ نجی چینل پر چلنے والی خبر حقائق کے منافی ہے۔ نجی چینل نے دل آزاری پر چیئرمین نیب سے معذرت کی ہے۔

نیب ترجمان کے مطابق بلیک میلر گروپ کے خلاف درج مقدمات میں بلیک میلنگ، اغوا برائے تاوان اور عوام کو لوٹنے کے الزامات ہیں۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے اور نیب کے جعلی افسران بن کر لوٹنے کے ثبوت موجود ہیں۔

تبصرے بند ہیں.