سینئر صحافی ادریس بختیار مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے

پاکستان کے سینئر صحافی ادریس بختیار مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

ملکی صحافت کا ایک اور روشن ستارہ ٹوٹ گیا، صحافت کی شان اور رپورٹنگ کا اعتبار بڑھانے والے سینئر صحافی ادریس بختیار مختصر علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے۔

وہ گزشتہ دنوں کراچی یونین آف جرنلسٹ کی افطار پارٹی میں شرکت کیلیے پریس کلب آئے تھے جہاں سے واپسی پر انہیں دل میں تکلیف کی شکایت پر قومی ادارہ برائے امراض قلب لے جایا گیا جہاں وہ تین دن تک تشویشناک حالت میں زیرعلاج رہے اور آج رات سوا 8 بجے وہ خالق حقیقی سے جاملے۔

ان کی نماز جنازہ بعد نماز فجر گلشن اقبال وسیم باغ میں ادا کی جائے گی۔ ادریس بختیار کے انتقال پر ملک بھر کی صحافتی برادری میں سوگ طاری ہوگیا ہے۔

انہوں نے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز حیدرآباد سے کیا، اس کے بعد کراچی آگئے جہاں کچھ عرصہ مقامی خبر رساں ایجنسی میں بطور رپورٹر کام کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

طویل رپورٹنگ کیریئر میں وہ کئی مقامی روزناموں سے وابستہ رہے، ڈان گروپ کے تحت شائع ہونے والے جریدے ہیرالڈ کے چیف رپورٹر بھی رہے۔

ان کے انتقال پر سیاسی رہنماؤں نے اظہار تعزیت اور  لواحیقن کے لیے صبرجمیل کی دعا کی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ادریس بختیار اعلی پائے کے نثر نگار، زیرک صحافی اور مستحکم رائے رکھنے والے کالم نگار تھے۔

انہوں نے صحافیوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ٹریڈ یونین لیڈر کا بھی شاندار کردار ادا کیا، ان کی صحافت میں خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ادریس بختیارایک بہترین صحافی اورزبردست انسان تھے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب قومی تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم پاکستانی صحافت کا ایک بڑا معتبر حوالہ تھے اور نازک موضوعات پر بھی جرات مندی سے اپنا نکتہ نظر پیش کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ادریس بختیار کو ان کی صحافتی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے معروف و سینیئر صحافی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم منفرد طرز صحافت کی وجہ سے اپنا علیحدہ مقام رکھتے تھے۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ادریس بختیار صحافی برادری میں کہنہ مشق استاد کا درجہ بھی رکھتے تھے ان کے انتقال سے صحافت میں پیدا ہونے والا خلا شائد ہی پورا ہوسکے۔

تبصرے بند ہیں.