تنخواہوں میں10فیصد اضافہ۔مزدور کی کم سے کم اجرت17500روپے مقرر

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے 70 کھرب 36 ارب 30 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا۔

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کے اراکین بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کراجلاس میں شریک ہوئے۔

حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں  گریڈ وائز اضافہ کیا جائے گا۔ گریڈ ایک سے 16 کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا اور گریڈ 17 سے 20 کی تنخواہوں میں اضافہ 5 فیصد ہو گا، اسی طرح گریڈ 20 سے 22 کے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیرمملکت نے اپنی تقریر میں آئندہ سال کے لیے ملک میں کم از کم تنخواہ 17500 روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

حماد اظہر نے کہا کہ کابینہ اراکین نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر سالانہ 6 لاکھ روپے آمدن  پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور اِنکم ٹیکس پر 12 لاکھ کی حد ختم کر دی گئی۔ غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ 4 لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا۔ کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ اِنکم ٹیکس کا ریٹ 2 سال تک 29 فیصد فکسڈ کر دیا گیا جبکہ تحائف کی وصولی کو آمدن تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ نان فائلر کے لیےجائیداد کی خریداری پر پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے جس کے بعد نان فائلر 50 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد خرید سکیں گے۔

وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پر سیلز ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چینی پر سیلز ٹیکس 8 سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا جس سے چینی کی قیمت میں ساڑھے 3 روپے فی کلو اضافہ ہو جائے گا۔ کولڈ ڈرنکس پر سیلز ٹیکس 11.5 سے بڑھا کر 13 فیصد کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ میں کی ایف ای ڈی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سگریٹ کی فی ڈبی 10 سے 14 روپے مہنگی ہو جائے گی۔ سگریٹ پینے والوں سے 147 ارب روپے کی ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ ایک ہزار سگریٹ پر پہلے ٹیکس 4 ہزار 500 روپے تھا جو اب 5 ہزار 200 روپے کر دیا گیا ہے،

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ایک ہزار سی سی کی گاڑی پر 2.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دو ہزار سی سی پر پانچ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ دو ہزار سے زائد سی سی کی گاڑی پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ  رواں مالی سال کے بجٹ میں خشک دودھ اور پنیر کی درآمد پر دس فیصد ٹیکس لگایا جائے گا، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 17 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی، سیمنٹ پر ڈیوٹی ڈیڑھ روپے سے بڑھا کر دو روپے فی کلو کر دی گئی۔ ایل این جی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 10 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی تجویز دی گئی۔

حماد اظہر نے کہا کہ ایک ہزار سی سی کی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں ڈھائی فیصد کا اضافہ، ایک ہزارایک سی سی سے دو ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر 5 فیصد ڈیوٹی،  2ہزار سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر ڈیوٹی ساڑھے 7 فیصد تک عائد کر دی گئی۔

وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ خالی پلاٹ 10 سال میں فروخت کیا تو گین ٹیکس دینا ہو گا۔ شفاف اور خوف سے پاک ٹیکس نظام لانا چاہتے ہیں، ٹیکس نظام میں جمود توڑنے کے لیے فرضی کے بجائے حقیقی آمدن پر ٹیکس لاگو ہو گا۔ تنخواہ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا۔

حماد اظہر نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومتی اخراجات 460 ارب روپے سے کم کر کے 437 ارب روپے کر دیے گئے ہیں۔ 80 ہزار مستحق لوگوں کو ہر مہینے بلا سود قرضے دیے جائیں گے۔ دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پر برقرار رکھا جائے گا۔ آئندہ سال کے دوران سبسڈی کے لیے 271 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ملکی قرضہ 31 ہزار ارب روپے ہے، 97 ارب ڈالر بیرونی قرضوں کا سامنا ہے، دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گرتے 10 ارب ڈالر رہ گئے۔ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ گردشی قرضہ 38 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے جسے 26 ارب تک لے آئے ہیں۔آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا گیا، چین، سعودی عرب، یو اے ای سمیت دیگر دوستوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ملکی مشکل صورتحال میں ہماری مدد کی۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دی گئی ہے۔ ٹیکس پالیسیوں کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے، حکومت کی رقم کمرشل بینکوں میں رکھنا منع ہے، ایف بی آر نے سرمائے کی کمی کو دور کرنے کے لیے 147 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کیے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بینکوں میں 5 کروڑ اکاؤنٹس ہیں، صرف 10 فصد ٹیکس دیتے ہیں، بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ جب تک ٹیکس کے نظام کو صحیح نہیں کرینگے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ اب اس حالات پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں تنخواہوں کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ احتساب کا نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، برآمدات میں اضافے کے لیے ڈیوٹی سٹرکچر پر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری خدمات کے لیے 56 کھرب 7 ارب روپے سے زائد مقرر کیے گئے ہیں اور قرضوں کے سود کی 28 کھرب 91 ارب 44 کروڑ 90 لاکھ کی تجویز دی گئی۔

حماد اظہر نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 35 کھرب 14 ارب 15 کروڑ 70 لاکھ دینے کی منظوری دی گئی۔ قابل تقسیم پول کے تحت پنجاب کو 16 کھرب 11 ارب 36 کروڑ 40 لاکھ روپے، سندھ کو 8 کھرب 14 ارب 91 کروڑ 60 لاکھ روپے، خیبر پختونخوا کو 5 کھرب 33 ارب 26 کروڑ 10 لاکھ روپے اور بلوچستان کو 2 کھرب 94 ارب 8 کروڑ 30 لاکھ دیے جائیں گے۔

حماد اظہر نے کہا کہ آئندہ سال کے بجٹ میں انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت نے زراعت کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ کراچی میں وفاقی حکومت کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45 ارب روپے مختص کیے گئے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ وزیر اعظم کے 50 لاکھ گھروں سے بیرونی سرمایہ کاری آئے گی، بجٹ میں کامیاب جوان کاروبار اسکیم کے تحت 100 ارب روپے کے قرضے دیے جائیں گے اور بجلی، گیس کے لیے 40 ارب روپے کی سبسڈی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہاں 218 ارب کے پانی کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ بجٹ میں گندم، چاول اور دیگر اجناس کے لیے 44 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیر مملکت برائے ریونیو کا کہنا تھا کہ ملک میں 75 فیصد لوگ 300 یونٹ استعمال کرتے ہیں، جس کے لیے سبسڈی کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، حکومت نے ایک غربت کے خاتمے کے لیے نئی وزارت بنائی ہے، احساس مدد سے غریبوں، بیواؤں، یتیم لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حکومتی اخراجات 460 ارب سے کم کر کے 431 کر رہے ہیں۔

حماد اظہر کا کہناتھا کہ معذور افراد کو وہیل چیئر دیں گے، تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے افراد کو خصوصی ترکیب دی جائیگی۔ احساس پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی 57 لاکھ انتہائی غریبوں کو 5 ہزار نقد دی جاتی ہے اس کے لیے 110 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نئی راشن کارڈ سکیم شروع کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارے کے لیے اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیں گے، ترقیاتی بجٹ میں 1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، بجلی کے منصوبوں، سی پیک ترجیح ہونگے۔ ترقیاتی بجٹ کے لیے 93 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دیا میر بھاشا ڈیم کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں، مہمند ڈیم کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نیشنل ہائی وے کے لیے 170 ارب روپے خرچ کیے جائینگے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے لیے 951 ارب روپے مقرر کیے گئے ہیں جبکہ بجٹ میں 5 ہزار 550 ارب کے ٹیکس محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ بجٹ دستاویزات کے مطابق ایف بی آر کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے اور متفرق ٹیکسز کا ہدف 267 ارب 20 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 894 ارب 50 کروڑ روپے، بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی وصولیوں کا ہدف  ایک ہزار 828 ارب 80 کروڑ روپے رکھا گیا ہے اور نجکاری پروگرام سے 150 ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہاں کل دستیاب وسائل کا تخمینہ 7 ہزار 36 ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا۔

حماد اظہر نے کہا کہ سوات ایکسپریس وے کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ آبی وسائل کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6 ہزار 192 ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے اور پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421 ارب روپے رکھا گیا جبکہ سود کی ادائیگیوں کے لیے 2 ہزار 891 ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ اب ٹیکس ریفنڈ کا نظام بہتر بنایا جائے گا۔ ٹیکس نظام کی بہتری تک پاکستان ترقی نہیں کر سکے گا۔ حکومت نے غربت میں کمی کے لیے ایک نئی وزارت بھی قائم کر دی ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ 5 سال کے اندر ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مالیاتی خسارہ 2 ہزار 2 سو 60 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جبکہ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 12 سو ارب روپے تک پہنچ گیا تھا اور پاکستانی روپے کی قدر برقرار رکھنے کے لیے اربوں ڈالر جھونک دیے گئے، افراط زر 6 فیصد کو چھونے لگی تھی۔

رواں مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخراجات میں کمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی، سول اور عسکری حکام نے بجٹ میں مثالی کمی کی ہے، ملک میں بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس میں حصہ نہیں ڈالتے اور 31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے صرف 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.