روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث فوجی سربراہ پر پابندی

امریکا نے مسلم کش فسادات کو روکنے کے بجائے انتہا پسندوں کی پشت پناہی کرنے پر میانمار کی فوج کے سربراہ سمیت 3 اعلیٰ افسران پر پابندیاں عائد کر دیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکومت نے میانمار کی فوج کے سربراہ جنرل من آنگ ہلینگ، ڈپٹی کمانڈر ان چیف سوئے ون، بریگیڈیئر جنرل تھا اوو اور بریگیڈیئر جنرل آنگ اور ان کے اہل خانہ پر سفری اور اقتصادی پابندیاں عائد کردیں ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ میانمار حکومت نے اب تک ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جو مسلم کش فسادات کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مرتکب پائے گئے تھے۔

مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ امریکا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اورقتل عام پر میانمار فوج کے اعلیٰ عہدیداروں پرعلی الاعلان پابندی عائد کی ہے اور فوجی افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنے پربرمی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ مکمل تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مذکورہ فوجی افسران روہنگیا مسلم برداری کی ماورائے قانون ہلاکتوں کے ذمہ دار اور انسانیت سوز مظالم میں ملوث پائے گئے ہیں۔

گزشتہ برس میانمار کے آرمی چیف اور 5 جنرلوں کے سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر فیس بک نے میانمار فوج کے آرمی چیف سمیت اعلیٰ فوجی افسران اور سیاسی رہنماؤں کے 18 فیس بک اکاؤنٹس اور 52 فیس بک پیجز کو بھی حذف کردیا تھا جب کہ  ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ کو بھی ڈیلیٹ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 2017 میں میانمار فوج اور بدھ مت کے انتہا پسند پیرو کاروں نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا، خواتین کی عصمت دری کی گئی اور املاک کو نذر آتش کردیا گیا تھا جس کے باعث 3 لاکھ روہنگیا مسلمان اپنے گھرباراورکاروبار کو چھوڑ کر بنگلا دیش کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔

 

تبصرے بند ہیں.