کشمیر کبھی بھی پھٹ سکتا ہے.نیویارک ٹائمز

مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال پر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے آرٹیکل میں چشم کشا انکشافات کیے ہیں۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت خود کہتی ہے کہ 2 ہزار کشمیری زیر حراست ہیں ،گرفتار کشمیریوں میں سیاسی رہنما ، انسانی حقوق کے علمبردار، سرمایہ کار، تاجر، طلبا اور14 سال کے بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر افراد کو آدھی رات کے وقت اٹھایا گیا اور قیدیوں کو اہل خانہ اور وکیل سے ملنے کی بھی اجازت نہیں ہے،متعدد افراد کو خفیہ پروازوں کے ذریعے لکھنو¿ ، وارانسی اور آگرہ جیل منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں ۔

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے اور امریکہ کا اہم ترین اتحادی ہے،مقبوضہ جموں وکشمیر میں قبرستان کی مانند سناٹا ہے، کشمیر میں دہائیوں سے کشمکش اور انتشار ہے ،کشمیری اب بہت شکستہ دل ہیں ۔

یہ خطرہ ہے کشمیر بھرا بیٹھا ہے اور کبھی بھی پھٹ سکتا ہے، اگرچہ فون لائنز بند ، لیڈرز جیل میں اور فوجی ہر گلی میں ہیں، لیکن اس سب کے باوجود احتجاج ہورہا ہے، ان میں سے بعض پر امن ہیں اور اکثر تصادم میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ مظاہرین ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں’ کشمیر کا حل صرف بندوق سے ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.