بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی 24 گھنٹوں میں دوسری بار دفتر خارجہ طلبی

پاکستان نے بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پرسیزفائز کی خلاف ورزی پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو 24 گھنٹوں میں دوسری بار دفتر خارجہ طلب کرلیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرگورو اہلووالیا کو طلب کیا اور ایل او سی پر بھارتی فوج کی سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر احتجاجی مراسلہ دیا۔

دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے 6 ستمبرکو کھوئی رٹہ سیکٹر میں یکجہتی کشمیرریلیوں میں شہریوں کو دانستہ طورپرنشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 4 پاکستانی شہری شدید زخمی ہوئے۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی فوج ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر شہری آبادی کو مسلسل بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہی ہے، بھارتی فوج کی جانب سے 2017 سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا افسوسناک اورعالمی انسانی حقوق و قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں علاقائی امن و سلامتی کیلیے خطرہ ہیں۔

ڈی جی جنوبی ایشیا نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ بھارت 2003 کے سیز فائر معاہدے کا احترام کرے، سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت اپنی فوج کو سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے باز رہنے کی ہدایت کرے، ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کیلئے سیز فائر پر من و عن عمل کیا جائے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کشمنر کو دفترخارجہ طلب کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.