اخوان المسلمون کے 11 رہنماؤں کو عمر قید کی سزا

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے سرکردہ رہنما محمد بدیع سمیت 11 رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنادی۔اخوان المسلمون کے رہنماؤں پر فلسطین کی تنظیم حماس کیلیے جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

سزا پانے والوں میں اخوان المسلمون کے سب سے بڑے رہنما محمد بدیع اور ان کے نائب خیرت الشاطر بھی شامل ہیں۔تمام افراد پرغیرملکی تنظیموں کے تعاون سے جرائم کرنے کا الزام تھا۔

ان دونوں رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جس کی مدت مصر میں 25 سال ہے۔ رپورٹس کے مطابق اخوان المسلمون کے دیگر 5 اراکین کو بھی7 سے 10 سال تک قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 6 افراد کو رہا کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 17 جون 2019 کو مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں بے ہوشی کے بعد اسپتال منتقل ہوتے ہوئے انتقال کرگئے تھے۔

مرسی پر قطر کیلیے جاسوسی کا الزام تھا جس کی سماعت کیلیے وہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت برخاست ہونے کے بعد 67 سالہ محمد مرسی بے ہوش ہوگئے، اوراسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.