شناختی کارڈ کی شرط انتہائی مبہم

حکومت اور تاجروں کے درمیان شناختی کارڈ کی شرط بحران کی شکار ملکی معیشت کے لیے مسئلہ بن گئی ہے۔ شناختی کارڈ کی شرط انتہائی مبہم ہے۔ اس سے جعلسازی کا عنصر ہمیشہ قائم رہے گا۔ حکومت کی.غیر واضح پالیسی کی وجہ سے کوئی بھی شخص کسی دوسرے کا نمبر دے کر آسانی سے دھوکہ دے سکتا ہے۔ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟۔

حکومت شناختی کارڈ کی شرط پر اصرار کر رہی ہے جبکہ تاجراس کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ اب معاملہ دو دن سےجلائوگھیرائو جلسے جلوس اور ہڑتالوں تک جا پہنچا ہے۔بحران میں گھری معیشت مزید مسائل سے دوچار ہو گئی ہے۔

ملک بھر میں تجارتی مراکز پر دو دن کے لیے تالے پڑے ہوئے ہیں۔ تاجر تنظیموں کے مطابق دو دن کی ہڑتال سے ملکی معیشت کو 20 سے 25 ارب روپے کا نقصان ہوا۔مگر یہ اونٹ ابھی تک کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دے رہا۔ حکومت نے شناختی کارڈ نمبر کی شرط تین ماہ عرصے کے لیے موخر کی ہے لیکن تاجر اس کا مستقل خاتمہ چاہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ حکومت پچاس ہزار کی خریداری پر شناختی کارڈ نمبر دینے پراتنا زور کیوں دے رہی ہے؟ حکومت اپنی یہ شرط منوا بھی لیتی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس کا غلط استعمال نہیں ہوگا؟۔

کیا حکومت نے کوئی ایسا نظام تیار کیا ہے کہ اس قسم کی جعلسازی سے بچا جا سکے؟ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ شرط غلط استعمال نہیں ہوگی؟ اور کیا حکومت اپنے اصل مقصد یعنی ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی میں کامیاب ہو جائے گی؟

معاشی ماہرین کہتے ہیں یہ اس مرض کا مکمل علاج نہیں ہے، جعلسازی کا خدشہ موجود رہے گا۔ ان کے مطابق اس معاملے میں آسانی سے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ ہمارا شناختی کارڈ کا سسٹم کمزور اور لوگوں میں آگاہی کی کمی ہے۔شہریوں کے شناختی کارڈ نمبر آسانی سے دستیاب ہیں جسے کسی بھی موقع پر غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کوئی بھی شخص خریداری کرکے کسی دوسرے شہری کا شناختی کارڈ نمبر دے کر جان چھڑا سکتا ہے۔یعنی کوئی تاجر اپنے ملازم کا شناختی کارڈ نمبر دے کر بھی ٹیکس نظام سے آسانی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یوں حکومت کو اس شرط سے کوئی فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اسٹیٹ بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایف بی آر کو شناختی کارڈ کی شرط پر تاجروں کو اعتماد میں لینے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔

تبصرے بند ہیں.