پولیس کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار

کراچی پولیس ہیڈکوارٹرز میں تعینات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتارہوگیا۔

اینٹی کرپشن ایسٹ نے 4 شکایات موصول ہونے کے بعد کارروائی کی اور مجسٹریٹ کی سربراہی میں پولیس اسپتال پر چھاپہ مارا گیا۔

اینٹی کرپشن ایسٹ نے پولیس ہیڈکواٹر سے متصل پولیس اسپتال پر چھاپہ مار کر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پولیس دوست محمد اور ساتھی طفیل عمرانی کو گرفتار کیا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ضمیر عباسی کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو 20 ہزار رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔

ضمیر عباسی نے مزید بتایا کہ ایم ایس پولیس کو بڑی پیمانے پر بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا گیا، پولیس ایم ایس نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں سے رشوت لیتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ فی ریکروٹ سے 40 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک رشوت وصول کی جاتی تھی، پولیس ایم ایس رشوت کے عوض میڈیکل سرٹیفیکٹ تیار کر کے دیتا تھا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے مطابق شہید اور زخمی کوٹے پر آنے والے اہلکاروں کے فٹنس سرٹفکیٹ تیار کیا جاتے تھے، جو اہلکار فٹ نہ ہوتا اسے رشوت کے عوض فٹ قرار دیا جاتا۔

خیال رہے کہ شہید اور زخمی کوٹے میں میڈیکل سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.