بابا گرونانک کا پیغام کاش کشمیر کی وادی تک پہنچ جائے۔شا محمود قریشی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ گرونانک کا پیغام امن ہے،کاش یہ محبت کا پیغام کشمیر کی وادی تک پہنچ جائے اور وہاں کی عوام کو بھی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرتارپور راہداری تقریب کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا مذہبی پاکستان میں ہم آہنگی کا عملی مظاہرہ دیکھ رہی ہے، آج دنیا میں نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے،عمران خان نے عاجزی ، انکساری، اوراللہ کی خوشنودی کیلیے قدم اٹھایا ہے، کرتاپور صاحب کے دروازے پوری دنیا کی سکھ کمیونٹی کیلیے کھول دیے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستانی کی محبت کا عملی مظاہرہ آپ کو نظرآ ئے گا،بابا گرونانک کا پیغام امن تھا،آج ہم نے دیکھنا ہے خطے میں امن کو خطرہ کہاں سے لاحق ہے،نفرت کی فصل کون بو رہا ہے، بابا گرونانک نے عوام کی خدمت کو ترجیح دی اورآ ج سکھ کمیونٹی پوری دنیا میں پاکستان کے اس فیصلے کو سراہا رہا ہے،صوفیا کا پیغام امن اور بھائی چارے کا پیغام ہے،کاش یہ محبت کا پیغام کشمیر کی وادی تک پہنچ جائے اور وہاں کی عوام کو بھی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دو راہداریوں پرکام ہو رہا ہے، معاشی راہداری کیلیے سی پیک جبکہ محبت کی راہداری کیلیے کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا گیا ہے،آج ہمیں اپنے گریبانوں میں دیکھنا ہوگا،اکیسیوں صدی ایشیا کی صدی کہلاتی ہے اب دیکھنا ہے کہ ہمیں کیا ملتا ہے، وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا اورانہوں نے اسے پورا کیا ہے۔کشمیری انصاف کے منتظر ہیں،انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو مسئلہ کشمیرکو مل کر حل کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل کر دونوں ملکوں کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرتاپورراہداری دنیا کا سب سے بڑا گردوارا بن چکا ہے، عمران خان نے 400مندوروں پر کام کرنے کیلیے کام شروع کر دیا ہے، پاکستان میں تمام اقلیتوں کوآزادی حاصل ہے،یہ قائد اعظم محمد علی جناح کا ویژن ہے، نریندر ی مودی نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی کاوش پر شکریہ ادا کیا لیکن کیا نریندر موسی وزیراعظم عمران خان کو کشمیرسے کرفیو ہٹا کر شکریہ کا موقع دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی سری نگرکی جامع مسجد کشمیریوں کیلیے کھول دیں تاکہ وہ آزادی سے نماز پڑھ سکیں ،برلن کی دیوارگرسکتی اورسکھ یاتریوں کیلیے کرتارپورراہداری کھل سکتی ہے،لائن آف کنٹرول کی حد بندی بھی ختم ہو سکتی ہے اور حق خود ارادیت کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.