امریکااورطالبان میں قیدیوں کے تبادلے پرعملدرآمد

امریکااورطالبان میں قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے پرعملدرآمد ہوگیا۔

امریکی یونیورسٹی کے پروفیسروں کو امریکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے افغانستان کے صوبے زابل سے روانہ کیا گیا جبکہ امریکی پروفیسروں کی رہائی کے بدلے طالبان کے تین رہنماؤں کو رہا کیا گیا ہے۔

افغان طالبان نے اپنی تحویل میں موجود دونوں غیرملکی پروفیسرز کوامریکا کے حوالے کردیا۔تریسٹھ سالہ امریکی شہری کیون کنگ اور50 سالہآسٹریلوی شہری ٹموتھی ویکس کو دوہزار سولہ میں کابل سے اغوا کیاگیاتھا۔

افغان میڈیا کے مطابق گزشتہ شام افغانستان کی بگرام جیل سے رہا کیے گئے انس حقانی سمیت طالبان کے 3 رہنما بھی قطر پہنچ گئے ہیں، امریکی پروفیسروں کی رہائی کے بدلے طالبان رہنماؤں کو رہا کیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دونوں مغوی شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے اور کابل کی امریکن یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے۔مغویوں کو مشرقی افغانستان میں امریکی حکام کے حوالے کیاگیا اور اس کے بدلے طالبان کے ایک سینئر رہنما کو رہاکیا گیاہے۔حکام کے مطابق مغویوں کی صحت تشویشناک ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ وہ مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والے دو مغوی پروفیسروں کے بدلے تین طالبان کمانڈروں کو مشروط طور پر رہاکر نے جارہے ہیں۔

13 نومبر کوافغان صدر اشرف غنی نے کہاتھا کہ کابل میں واقع امریکی یونیورسٹی کے دو مغوی پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں طالبان سے منسلک شدّت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے تین قیدیوں کو “مشروط طور پر رہا کیا جا رہا ہے۔

افغان صدر کے مطابق دونوں پروفیسروں کے بدلے میں حقّانی نیٹ ورک کے سربراہ کے بھائی انس حقانی کے ساتھ حاجی مالی خان اور عبدالرشید حقّانی کو بھی رہا کیاجائے گا۔

افغان صدر کی جانب سے اس اعلان سے ایک روز قبل ہی آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کابل کا دورہ کیا تھا اوراس موقع پرانہوں نے افغان قومی سلامتی مشیر حمداللہ مہیب سے کابل میں ملاقات کی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.