ناروے میں قرآن کی بیحرمتی کی ناپاک جسارت

ناروے میں اسلام مخالف ریلی میں توہین قرآن کی ناپاک جسارت کرنے پردنیا بھر میں مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا۔

قرآن پاک کو نذرآتش کرتے دیکھ کر مسلمان نوجوان مشتعل ہو گئے اور ملعون شخص کو سبق سکھانے کیلیے حملہ کردیا،پولیس نے حالات کو بگڑتا دیکھ کر فوری طور پرمسلمان نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق ناروے کے شہرکرسٹین سینڈ میں قرآن کی توہین اور نذرآتش کرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ اسلام مخالف تنظیم (سیان) کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن کی شدید بے حرمتی کی گئی اورایک نسخے کوآگ لگا دی۔

اس موقع پر ناروے کی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور تنظیم کے سربراہ لارس تھورسن کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

قرآن کی توہین ہوتے دیکھ کرد وہاں موجود مسلمان نوجوان برداشت نہ کرسکے اور سبق سکھانے کے لیے اس لعنتی پر حملہ کردیا۔ پہلے ایک نوجوان رکاوٹیں توڑتا ہوا آگے بڑھا اور معلون لارس تھورسن پر حملہ کردیا۔

اس اقدام سے مزید نوجوانوں کو ہمت ملی اور دیگر نوجوان بھی ملعون تھورسن پر حملہ آور ہوئے جس پر پولیس اہلکار جو پہلے تماشا دیکھ رہے تھے، وہ آگے بڑھے اورحملہ آور نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جبکہ معلون لارس تھورسن کو بھی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔

کرسٹین سینڈ شہر میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے لیکن ناروے کی انتظامیہ نے نہ صرف اس اشتعال انگیز ریلی کی اجازت دی بلکہ قرآن کی توہین سے بھی نہ روکا۔

ناروے سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے توہین قرآن کی شدید مذمت کرتے ہوئے معلون لارس تھورسن پر نفرت انگیز جرائم کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی کی حکومت نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ناروے کی حکومت پراس طرح کے واقعات کی روک تھام کرنے کے لیے زور دیا۔ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ واقعے میں ملوث ملعون تھورسن کر قرار واقعی سزا دی جائے۔

معلون لارس تھورسن ایک عادی مجرم ہے اور حال ہی میں اوسلو میںز اسلام مخالف  اشتعال انگی لٹریچر پھیلانے کے الزام میں 30 روز قید کی سزا بھگت چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.