منظور پشتین نا پسندیدہ شخصیت

اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کے ساتھ گفتگو کا طے شدہ پروگرام اچانک منسوخ کردیا گیا۔

پروگرام کا وقت پریس کلب کی لائبریری میں ہفتے کی سہ پہر چار بجے کا رکھا گیا تھا تاہم اس گفتگو کے شرکا کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی پریس کلب کی انتظامیہ نے سینئر صحافیوں کے کلب پر داخلے پر پابندی لگا دی۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی پریس کلب کے اطراف میں موجود تھی۔

منظور پشتین کے ساتھ یہ گفتگو کلب لائبریری میں چار بجے شروع ہونا تھی لیکن غیر متوقع اور ناخوشگوار صورت حال کے پیش نظر یہ گفتگو پریس کلب کے سامنے ایک پارک میں پانچ بجے سے کچھ پہلے شروع ہوئی۔ منظور پشتین نے قبائلی اور خیبر پختونخوا کے دیگرعلاقوں کے حالات پراظہار خیال کیا۔

اسلام آباد پریس کلب میں پیش آنے والے واقعے پر صحافی برادری انتہائی ناگواری کا اظہارکیا ہے ۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکریٹری جنرل ناصر ملک نے  بتایا کہ جو کچھ پریس کلب میں ہوا، وہ انتہائی شرمناک واقعہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ پریس کلب ایک ایسی جگہ ہے، جہاں کوئی بھی شہری آ کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے لیکن اس طرح پروگرام منسوخ کرنا، صحافیوں پردروازے بند کرنا اور ان سے توہین آمیز سلوک روا رکھنا قابل مذمت ہے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے۔

انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے بھی اس واقعے پرگہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.