سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔مولانا فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک پر بازاری قسم کے لوگ حکمرانی کر رہے ہیں اگر فوری الیکشن نہ ہوئے تو سخت فیصلے بھی کرسکتے ہیں۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ایک سال میں ملکی بحران میں اضافہ ہوگیا، ملکی معیشت کی صورتحال خطرناک ہے اور تمام ادارے ناکام ہوچکے ہیں، ملک کی انڈسٹری اور کاروباری طبقہ سرمایہ باہر لے جانے کا سوچ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو بے روزگارکیا جا رہا ہے جب کہ عام آدمی روٹی اور سبزی بھی نہیں خرید سکتا، کیا حکمرانوں کو گوربا چوف بننے کا شوق ہے؟

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہماری خارجہ پالیسی کی اساس تھا جسے تیسرے درجے پر دھکیل دیا گیا، پارلیمنٹ پر لوگوں کا اعتبار نہیں رہا، آزادی مارچ نے لوگوں کو متحد کرکے نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا، بہتری کی امید پر ملک کو تباہ نہ کیا جائے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پرانہوں نے کہا کہ ایکسٹیشن کے معاملے پرنااہلی نے دنیا کو جگ ہنسائی کا موقع دیا، اس پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق نہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دوسروں کو مافیا کہنے والے خود مافیا ہیں، ملک میں فوری الیکشن کرائے جائیں، اگر عوام کے اس مطالبے سے انحراف کیا گیا تو مزید سخت فیصلے بھی کیے جاسکتے ہیں۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ملک پر بازاری قسم کے لوگ حکمرانی کر رہے ہیں، چین سے ہماری 70 سالہ دوستی ہے اس دوستی کو اس وقت دھچکا پہنچا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف ڈاکٹروں کے کہنے پرعلاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے اوراب ان ہی کے کہنے پر واپس آئیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.