دعا منگی تاوان ادائیگی کے بعد گھر پہنچ گئیں

ایک ہفتہ قبل خیابان بخاری سے اغوا ہونیوالی دعا منگی گزشتہ شب گھر پہنچ گئیں تاہم اہلخانہ دعا سے متعلق کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہے، اس سلسلے میں پولیس کا موقف سامنے نہیں آسکا۔

مقامی میڈیا کے ذرائع کے مطابق مبینہ طورپر ڈیرھ سے دو کروڑ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد دعا منگی کی بازیابی عمل میں آئی، دعا گزشتہ شب گھر پہنچ گئی ہے اور وہ خیریت سے ہے تاہم اہلخانہ نے کسی بھی قسم کی معلومات شیئرکرنے سے گریز کیا۔

دعا منگی کے ماموں وسیم منگی نے بتایا کہ  دعا منگی بالکل ٹھیک اور خریت سے ہیں، انہیں گھر منتقل کردیاگیا ۔

وسیم نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم انہوں نے اس معاملے کو اٹھانے کے بعد میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ دعا منگی اس وقت ذہنی دبائو کا شکار ہے، اہلخانہ کے درمیان مشاورتی مرحلہ جاری ہے جس کے بعد کوئی واضح بات کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمارے پاس بھی کوئی کرنے کی بات نہیں ، جو بھی فیصلہ ہوگا ، وہ میڈیا کے سامنے رکھا جائے گا۔

ان کا کہناتھا کہ پولیس کی کاوشوں سے یہ بازیابی عمل میں آئی یا ذاتی کاوشیں تھیں؟ اس سوال پر وسیم منگی کا کہناتھاکہ بہت سی چیزیں اکٹھی ہوگئی تھیں، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے ، ہماری مشاورتی میٹنگ جاری ہے ، اس کے بعد ہی کچھ واضح ہوگا ۔

ادھر ٹی وی چینلز کے مطابق پولیس تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے تاہم اہلخانہ تعاون نہیں کررہے ، کیونکہ اہلخانہ پہلے ہی پولیس پرعدم اطمینان کا اظہارکرچکے ہیں اوراحتجاج بھی ہوتے رہے ،

پولیس افسران کاکہناتھاکہ رابطے کررہے ہیں اور فیملی کے پاس جارہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق مبینہ طورپر تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی دعا کی بازیابی عمل میں آئی اور اسی وجہ سے وہ اب اداروں سے تعاون بھی نہیں کررہے ۔

یاد رہے کہ دعا منگی کو ایک ہفتہ قبل ڈیفنس خیابان بخاری کے علاقے سے اپنے دوست کے ہمراہ واپس آتے ہی اغوا کیا گیا تھا اور ملزمان گاڑی میں ڈال کر دعا کو لے گئے تھے جبکہ ان کے ساتھ موجود لڑکے کو بھی گولی مار ی گئی جو زخمی حالت میں ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔

ادھرنجی ٹی وی نے بتایا کہ اس سے قبل واٹس ایپ کے ذریعے اہلخانہ سے رابطہ کیاگیا تھا اور تاوان بھی مانگا گیا تھا، وائس میسجز بھی تھے ۔ رپورٹ کے مطابق دعا منگی کے اغوا 11 مئی کو اغوا ہونیوالی بسمہ سے مماثلت رکھتا ہے ، دونوں واقعات میں تین چار لوگ تھے اور گاڑی ہی استعمال کی گئی ۔

تبصرے بند ہیں.