بڑے مقصد کیلیے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں۔وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ بڑے مقصد کیلیے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، جنون ٹیلنٹ کو ہرا دیتا ہے، انسان کا وژن جتنا بڑا ہوگا اتنی ہی کامیابی حاصل کرے گا، کچھ دن پہلے بھی ایک پلان ہوا تھا، پھر بی اور سی ہوا، پھر زیڈ پر چلا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے نسٹ میں انسداد بدعنوانی ایپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ آپ نے فواد چوہدری کو وزیر بنادیا ہے، آپ سائنس اور ٹیکنالوجی کو سنجیدہ نہیں لے رہے،ایک اچھے کپتان کو علم ہوتا ہے کس کھلاڑی کو کس نمبر کھیلانا ہے۔

انہوں نے کہاکہ عوام نے سائنس وٹیکنالوجی میں فوادچوہدری کی پرفارمنس دیکھ لی ہے۔ پاکستان میں میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے ترقی رک گئی تھی ، جس کی وجہ سے پاکستان نیچے چلا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپنی ذات سے نکل کرآگے جانے والے بڑا انسان بنتا ہے، اللہ نے انسان کو بے پناہ طاقت سے نوازا ہے،عوام اعتماد کھو دے تو محتاج ہوجاتے ہیں،ہرچیزایک وژن سے شروع ہوتی ہے، انسان جو پہلے صرف تصورکرتا تھا اس نے اس چیزکو کامیاب کرکے دکھایا، ہمیشہ اپنے دل کی بات پر عمل کرو کیونکہ جنون دل میں ہوتاہے،میری زندگی کا تجربہ ہے جنون ٹیلنٹ کو ہرا دیتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ زندگی کی لکیر کبھی سیدھی نہیں جاتی، بڑے خواب کی تعبیر کے لیے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، اس میں کوئی کوئی پلان بی اور سی نہیں ہوتا۔ ابھی ایک پلان بی ہوا پھرسی اورپھرزیڈ ہوجائے گا۔ جو انسان کامیاب ہوتا ہے وہ برے وقت میں خود کو سنبھالتا ہے، کچھ لوگ برے وقت میں شکست خوردہ ہوجاتے ہیں، ہر برا وقت آپ کو اوپر جانے کے لیے تیارکرتا ہے، جب تک آپ خود ہار نہیں مانیں گے آپ کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔

عمران خان نے کہا کہ زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں لیا، ہمارے پاس بادشاہت تھی، جہاں جمہوریت تھی وہ ملک آگے چلے گئے، بادشاہت کبھی بھی جمہوریت کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بادشاہت کبھی بھی جمہوریت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ جمہوریت میں میرٹ اور جوابدہی کا عمل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پورا خاندان سیاست میں آجاتا ہے جو جمہوریت کی نفی ہے،11 سال ایک شخص پارٹی کا چئیرمین رہے اور پھرکہے جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے۔ چار سال تک آپ کو یاد دلاتا رہوں گا کہ ہمیں کس طرح کا پاکستان دیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ وژن سے پیچھے ہٹنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے،گرکرکھڑے ہونے کے بعدمزید طاقت آجاتی ہے،کچھ لوگ برے وقت میں شکست خوردہ ہوجاتے ہیں۔

ان کاکہناتھا کہ ہر براوقت آپ کومشکل کاسامناکرنے کیلئے تیارکرتاہے،کامیاب انسان برے وقت میں خودکوسنبھالتاہے، جب تک آپ ہارنہیں مانیں گے،آپ کوکوئی ہرانہیں سکتا۔

وزیراعظم نے کہاکہ کچھ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بوڑھے ہوجاتے ہیں،ہارٹ اٹیک ہوجاتاہے،میں جب کرکٹ سے ریٹائر ہوا تو دوسروں کی طرح بیٹھ جاتا،کرکٹ پرباتیں کرتااورکروڑوں کماسکتاتھا،انہوں نے کہاکہ جب کرکٹ کھیلتاتھا تومیرے بھی رول ماڈلز تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جمعہ کی نماز کیلیے والد زبردستی لےکرجاتے تھے،دنیا کے رول ماڈل نبی کریم ہیں،نبی کریم کی طرززندگی پر چلنے والے لوگ عظیم بن گئے،انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پیچھے رہنے سے احتساب اور میرٹ ختم ہوجاتا ہے،زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں۔

تبصرے بند ہیں.