کارکن پوچھتے ہیں آخرپنڈی میں ایسا کیا ہے۔بلاول بھٹو

ذوالفقارعلی بھٹونے اس قوم کی ترقی کیلئے چار بنیادی اصول دیئے،آئین دیا۔انہوں نے کہا تھاکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ عوامی راج کاان کا نظریہ کچھ لوگوں کو پسند نہیں تھا۔اس لیے انہیں راولپنڈی میں تختہ دارپر لٹکادیا۔انہوں نے بھی شہادت قبول کی لیکن اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔

کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو دوآمروں سے ٹکرائیں۔ عوامی حقوق کیلیے لڑتی رہیں،شہادت سے کچھ عرصہ پہلے بلوچستان آئی تھیں، انہوں نے بھی ہمیشہ عوامی حقوق کی بات کی۔اور یہاں تک کہ انہیں بھی لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کردیاگیا۔

بلاول نے کہا کہ کارکن پوچھتے ہیں کہ آخرپنڈی میں ایسا کیا ہے کہ پہلے ذوالفقار بھٹو، پھر بی بی اور اب تیسری نسل کو بھی پنڈی میں ہی ستایا جارہاہے۔ انہوں نے کہا ہم خود پر مظالم سہہ لیں گے لیکن عوام کے حقوق پرسمجھوتہ نہیں کریں گے۔اگر ملک میں جمہوریت ، سیاست اور معیشت کا نظام عوامی امنگوں کے مطابق نہیں چل رہا تو پھر کس کی خواہش پر چل رہاہے۔

انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کی بات کی،عوام تک ان کا حق پہنچایا، اٹھارویں ترمیم کی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام متعارف کروایا، بلوچستان کی پسماندگی کو دور کرنے کیلیے آغاز حقوق بلوچستان اور گوادرجیسے انقلابی پروگرامز متعارف کروائے۔یہ سب بلوچستان کے عوام کی بحالی کیلیے تھا،زرداری چاہتے تھے کہ سب سے پہلے پسماندہ علاقوں کوترقی دی جائے لیکن افسوس کہ ان منصوبوں کو بلوچستان کے بجائے سندھ اور پنجاب سے شروع کیاگیا۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے عوام کے حقوق کا حقیقی معنوں میں تحفظ کیا،تھرمیں مردوخواتین کے روزگار کا بندوبست کیاگیا۔فیصل آباد میں کول پاور پلانٹس تھرکے کوئلے سے چل رہے ہیں۔انہوں نے کہاافسوس کہ ہماری سیاست عوامی مفادات کیلئے نہیں بلکہ سلیکٹرز کیلئے باقی رہ گئی ہے۔ سلیکٹرز کے ذریعے اٹھاروہیں ترمیم پر حملے کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا یہ کیسی آزادی ہے جہاں کالعدم تنظیموں کے کارکنوں اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹس کے انٹرویو چل سکتے ہیں،لیکن ایک سابق صدرکاانٹرویو نہیں۔یہ کیسی آزادی ہے کہ لاپتہ کئے گئے افراد ہی ملزم ٹہرتے ہیں ۔ یہ کیسی آزادی ہے جہاں نہ حقوق کا تحفظ ہے، نہ زندگی کااور نہ ہی معاشی تحفظ کا۔

انہوں نے کاہکہ سلیکٹڈاپنی نالائقی اور ناکامی کا بوجھ عوام پر ڈال رہا ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھردینے کا دعویدار اب لوگوں کاروزگار چھین رہا ہے، تجاوزت کے نام پر چھت چھین رہا ہے، پنشنز نہ بڑھا کر بزرگوں کو مشکلات کا شکار کیاجارہاہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ جمہوریت عوام کے مفادات کیلئے نہیں چل رہاہے۔سلیکٹرزجب بھی کسی کو سلیکٹ کرتے ہیں تو وہ سازش کے تحت منتخب کرتے ہیں۔جبکہ جو سلیکٹ ہوتے ہیں وہ انہی کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں نہ کہ عوام کا۔

ان کا کہناتھا کہ جن کرپٹ لوگوں کیخلاف سلیکٹڈ بولتا تھا اب وہ انہیں ایمنسٹی دے رہا ہے، ارب پتی تاجروں کیلئے اربوں کا بیل آوٹ لے آتے ہیں لیکن عام آدمی کیلیے کوئی بیل آوٹ نہیں لاتے۔

انہوں نے کہا صدر زرداری نے پنشن میں سو جبکہ تنخواہوں میں ایک سو پچاس اور فوجیوں کی تنخواہوں میں ایک سو پچھتر فیصد اضافہ کیا،اس سب کا مقصد تمام لوگوں کے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔یہی فرق ہے عوامی اور سلیکٹڈ حکومت کا۔سلیکٹڈ آج بھی سمجھتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کو دبا سکتے ہیں، یا جیالوں کو ڈرا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ضیا کی آمریت کا مقابلہ کیا، مشرف کا سامنا کیا،وہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ ذوالفقار بھٹو کے نواسے اور بی بی کے بیٹے کو ڈراسکتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ یہ کٹھ پتلی تو کچھ بھی نہیں یہ تو ان کی بھول ہے۔

تبصرے بند ہیں.