عراق میں امریکی فوجی اڈے پر پھر راکٹوں سے حملہ

عراق میں امریکی فوجی اڈے پراتوارکی شام کم سے کم آٹھ میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں متعدد عراقی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

العربیہ کے مطابق اتوارکی شام کو صلاح الدین گورنری کے’بلد’ ایئربیس پرکئی میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں متعدد عراقی فوجی زخمی ہوگئے جب کہ فوجی اڈےکو نقصان پہنچا ہے۔

سیکیورٹی میڈیا سیل نے بتایا کہ “بلد” اڈے پر 8 کتیوشہ راکٹوں سےحملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں عراقی فضائیہ کےایک اہلکار سمیت متعدد عراقی شہری زخمی ہوگئے۔

عراقی سرزمین پر امریکا اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کے بعد کسی امریکی فوجی اڈے پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ حالیہ چند روز قبل ایران نے براہ راست عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پرمیزائل حملے کیے تھے، ان حملوں کے بعد بلد اڈے سے بیشتر امریکی فوجی نکل گئے تھے۔

عراقی فوج کے ذرائع کاکہنا ہے کہ بلد فوجی اڈے پر اب صرف پندرہ امریکی فوجی اور ایک جنگی طیارہ بچا ہے۔ باقی سب وہاں سے نکل گئے ہیں۔

دوسری طرف عراقی سیکیورٹی عہدیداروں نے نشاندہی کی کہ عراقی ایف 16 طیاروں کو چلانے میں مہارت رکھنے والے امریکی مشیروں اورلاک ہیڈ مارٹن اور سال پورٹ کمپنیوں کے 90 فیصد سے زیادہ افراد بلد ایئربیس سے تاجی اوراربیل فوجی کیمپوں میں واپس چلے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں قائم امریکی فوجی اڈےگذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے مسلسل اس طرح کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

گزشتہ سال 27 دسمبرکوعراق میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے راکٹ حملے میں ایک امریکی ٹھیکیدار ہلاک اور متعدد عراقی زخمی ہوگئے تھے۔ امریکا نے ان حملوں کی ذمے داری ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا پرعاید کی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.