آپ نے حکومتی محکموں کوجاگیر سمجھا ہواہے۔چیف جسٹس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبرپختونخوا محکمہ مواصلات میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق خیبرپختونخواحکومت کی اپیل خارج کردی،عدالت نے غلط بیانی کرنے پرخیبرپختونخوا حکومت پر5لاکھ روپے جرمانہ عائدکردیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کوکہہ دیں گے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں تمام لاافسران نئے بھرتی کردیں،کیوں نہ پورے ایڈووکیٹ جنرل آفس کوہی معطل کردیاجائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب آج ہم آپ کاپورادفترختم کردیں گے،آپ لوگوں کو ہم نوکری پر نہیں رہنے دیں گے ،اتنی بڑی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا محکمہ مواصلات میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس گلزار احمدنے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسارکیا کہ کیاآپ نے اپنی درخواست دیکھی؟۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخواحکومت نے اپنی غلطی تسلیم کی ہے؟چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کوکہہ دیں گے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں تمام لاافسران نئے بھرتی کردیں،کیوں نہ پورے ایڈووکیٹ جنرل آفس کوہی معطل کردیاجائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب آج ہم آپ کاپورادفترختم کردیں گے،آپ لوگوں کو ہم نوکری پر نہیں رہنے دیں گے ،اتنی بڑی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ آپ نے حکومتی محکموں کو اپنی جاگیر سمجھا ہواہے،یہ نوکریوں کامعاملہ ہے اگراربوں کاہوتا توحکومت کیساتھ کیاہوناتھا،کیاایڈووکیٹ جنرل آفس نے اس درخواست کو نہیں پڑھا؟،کیا محکمے کے سیکرٹری نے بھی اسے پڑھنا گوارہ نہیں کیا؟

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخواحکومت کی اپیل خارج کردی،عدالت نے غلط بیانی کرنے پرخیبرپختونخوا حکومت پر5لاکھ روپے جرمانہ عائدکردیا۔عدالت نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواملوث افراد کےخلاف سخت کارروائی کریں، جرمانے کی رقم ایدھی فاو¿نڈیشن میں جمع کرائی جائے۔

عدالت نے سیکریٹری کمیونی کیشن اینڈ ورک کو بھی ذمہ دارقراردیدیا،عدالت نے کہا کہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوازاہد یوسف نے غلط بیانی کی ،عدالت نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی معاملے کوقانون کے مطابق دیکھیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.