سندھ میں آٹے کا بحران نیب کی وجہ سے ہے۔سندھ ہائیکورٹ

گندم چوری اورنیب چھاپوں سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ ڈائریکٹر نیب سکھر پر برہم ہو گئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے افسرہی اپنے اعلیٰ افسروں کو گمراہ کرتے ہیں،نیب کی وجہ سے گندم کی قلت اورآٹے کا بحران سامنے آرہا ہے ،نیب والے اگر ٹھیک کام کرتے یہ صورتحال دیکھنے میں نہ آتی۔

سندھ ہائیکورٹ میں گھوٹکی کی 25 فلور ملز سے گندم کی چوری اورنیب کے چھاپے کے معاملے پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ ڈائریکٹر نیب سکھر پر برہم ہو گئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جن فلورملز نے پلی بارگین کی، ان سے منافع کی رقم کیوں نہیں لی ؟۔

پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب نے 25 میں سے 24 فلورملز مالکان سے پلی بارگین کرلی ،نیب نے 3200 روپے فی بوری کے حساب سے فلورمل مالکان سے رقم وصول کی ،وکیل نے کہا کہ سابق وزیر ،سیکریٹری اورڈائریکٹر خوراک کو ملزم بنانے کے بجائے نیب نے چھوڑ دیا ۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ نیب کے افسرہی اپنے اعلیٰ افسروں کو گمراہ کرتے ہیں ،نیب کی وجہ سے گندم کی قلت اورآٹے کا بحران سامنے آرہا ہے،نیب والے اگرٹھیک کام کرتے یہ صورتحال دیکھنے میں نہ آتی،عدالت نے نیب سے تحقیقات سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.