نئی دہلی میں مسلم کش فسادات ۔23 افراد جاں بحق۔کرفیو نافذ

نئی دلی کے شمال مشرقی علاقوں میں کرفیو لگا کر کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ دلی کے 4 علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا۔

انتہاپسندوں اور مودی سرکار کے گٹھ جوڑنے دلی کے مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی،بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مسلم کش فسادات میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہوگئی ہے اور250 سے زائد زخمی ہیں۔

دلی کے مسلمانوں پر قیامت کی گھڑی، بلوائیوں اور سرکاری اہلکاروں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی، بی جے پی اورآرایس ایس کے غنڈوں نے مسلم علاقوں میں تباہی مچا دی، انتہاپسندوں نے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔ مسلح جتھوں نے مسلمانوں کی دکانیں اورگھر نذر آتش کردیے جبکہ متعدد مساجد کو شہید کردیا۔

فسادات سے متاثرہ علاقے موج پورمیں پانچ موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی گئی، چھ میٹرو اسٹشن آج بھی بند رہے،آرایس ایس کے غنڈوں کی جانب سے ٹائرمارکیٹ میں مسلمانوں کی دکانوں کو آگ لگانے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔

شہر میں شدید کشیدگی برقرار ہے اور جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کررہا ہے جبکہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے۔

متاثرہ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر بند ہیں، امتحانات ملتوی ہوگئے ہیں جبکہ خوف و ہراس کا عالم ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس پر حملے ہورہے ہیں۔

جعفر آباد میں مسلم کش قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والی خواتین کے گرد نوجوانوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنائی، مظاہرین کا کہنا ہے کہ کئی نوجوانوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولی ماری گئی۔

ہنگاموں کی کوریج کے دوران این ڈی ٹی وی کے رپورٹرز کو بھی مارا پیٹا گیا اورانہیں روک کرکہا گیا کہ اپنا ہندو ہونا ثابت کرو۔ اس موقع پر پولیس صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

دہلی میں مسلمانوں کے گھر دکانیں نذر آتش اور مساجد شہید، زخمیوں اور ایمبولینسز پر حملے

شمال مشرقی دلی کے علاقے چاند باغ، بھجن پورہ، برج پوری، گوکولپوری اور جعفرآباد میں زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے رات گئے جسٹس ایس مرلی دھر کے گھر پر ایک درخواست کی ہنگامی سماعت کی اور پولیس کو ایمبولینس اور زخمیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔

جواہر لال یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ اروند کجریوال کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور تشدد کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دہلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے پانی کی توپ کا استعمال کیا۔

 

تبصرے بند ہیں.