دہلی میں تشدد یکطرفہ تھا،عمدہ پلاننگ کی گئی تھی

دہلی اقلیتی کمیشن (ڈی ایم سی) کے ایک وفد نے شمالی مشرقی دہلی کے تشدد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ وفد میں کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان اورممبرکرتار سنگھ کوچر شامل تھے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ڈی ایم سی کے وفد نے تشدد کے دوران تباہ ہونے والے تمام اسکولوں اور مساجد کا بھی دورہ کیا۔ وفد نے جن علاقوں کا دورہ کیا ان میں جعفر آباد، چاند باغ، برج پوری ، گوکلپوری ، مصطفی آباد ، شیو وہار، یمنا وہاراور بھجن پورہ شامل ہیں

کمیشن نے سب سے پہلے علاقے کے اے سی پی اور ڈی سی پی سے ملاقات کی جنھوں نے امن وامان، لوگوں کے بچانے اور بازہر جگہ ہم نے پایا کہ مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور ورکشاپس کو بہت نقصان پہنچا گیا۔

Image result for delhi riot and fire

ہم نے دیکھا کہ دو شنبہ کو کچھ لوگ 24-25 فروری کے بعد پہلی باراپنے تباہ شدہ گھروں اوردکانوں کو دیکھنے آئے تھے۔ گھروں اور دکانوں بلکہ سڑکوں پر بھی ملبہ پڑا ہوا تھا ،اس لیے ان گھروں یا دکانوں کو دوبارہ آباد کرنے کا فی الحال کوئی سوال نہیں۔

مزید برآں لوگوں کو اندیشہ ہے کہ گھروں اور دکانوں سے ملبہ ہٹانے اور مرمت کا کام شروع کرانے کی حالت میں ممکن ہے کہ سرکار سے ان کو معاوضہ ملنے میں دقت ہو۔

امبیڈکر کالج کے پاس ایک پارکنگ میں ہم نے جلے ہوئے ٹھیلے اورٹریکٹر دیکھے۔ موقع پر گارڈ نے ہم کو بتایا کہ وہاں 100 ٹھیلے اور11 ٹریکٹر جلائے گئے۔ پاس میں کھڑی ہوئی ایک اسکول بس کو بھی بہت نقصان پہنچایا گیا۔ حملہ آوروں نے جلانے سے قبل گاڑیوں کی قیمتی اشیا جیسے بیٹریاں نکال لیں۔

یمنا وہار میں ہم نے دیکھا کہ سڑک کے ایک طرف ہندوؤں کی دکانیں اور مکانات ہیں اور سڑک کے دوسری طرف مسلمانوں کی دکانیں اور مکانات ہیں اوردونوں طرف آگ زنی اورلوٹ پاٹ ہوئی ہے۔ یہاں ایک جلے ہوئے پیٹرول پمپ کے مالک مہیندراگروال نے ہم کو بتایا کہ ان کے پیٹرول پمپ پر30 گاڑیاں جلائی گئیں۔

بھجن پورہ میں ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں کی ٹریول ایجنسی اور موٹر سائیکل کی دوکان لوٹ کر جلادی گئی تھیں جبکہ ہندوؤں کی دکانیں پوری طرح محفوظ تھیں۔

 

کھجوری خاص کے ای بلاک میں ہم نے دیکھاکہ صرف مسلمانوں کی دوکانیں جلی ہیں۔ ایک پولیس افسر نے ہم کو بتایا کہ اس جگہ سے مقامی ڈی سی پی نے 350 مسلمانوں کو بچایا۔ کھجوری خاص کی گلی نمبر 5 میں مقامی لوگوں نے ہم کو بتایا کہ 23 فروری کی رات میں ہی کپل مشرا کے بیان اوردھمکی کے فوراً بعد فساد شروع ہوگیا تھا۔

Image result for delhi riot and fire

یہ گلی آگے سے بند ہے یہاں ایک سو مسلمان رہائش پذیر تھے اور وہ سامنے کی سڑک سے باہرنہیں جاسکتے تھے۔ یہ لوگ 25؍فروری کی صبح کو پولیس کی حفاظت میں اپنے علاقوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس گلی میں بی ایس ایف جوان محمد انیس کا مکان بھی ہم نے دیکھا جو بری طرح سے جلایا گیا تھا۔ اس وقت یہ جوان گھر پر نہیں تھا لیکن اس کے خاندان کے چار لوگ دنگے کے وقت وہاں موجود تھے۔ یہاں ساتھ میں ہم نے ایک بڑھئی کی دکان بھی دیکھی جس کے مالک محمد الیاس نے ہمیں بتایا کہ لوٹنے کے بعد اس کو تباہ کردیا گیا۔

کھجوری ایکسٹینشن کے مکان نمبر 51/3 میں جمیل احمد کا گیراج چل رہا تھا۔ انھوں نے ہم کو بتایا کہ ان کے گراج میں سات کاریں، چھ آٹو رکشا اور9 موٹر سائکلیں جلائی گئیں۔ انھوں نے ہم کو بتایا کہ جلانے سے چند گھنٹے پہلے ہندوآکراپنی گاڑیاں گراج سے نکال کر لے گئے۔ گراج میں موجود گاڑیوں کو جلانے کے بعد اس کی بلڈنگ کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

کھجوری خاص کی گلی نمبر 29؍ کے پلاٹ نمبر سی۔429 میں مسجد فاطمہ قائم ہے جسے بری طرح سے جلا دیا گیا ہے۔ وہاں مقامی مسلمان کافی تعداد میں آکر جمع ہوگئے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ مذہبی مقام کو فسادی ہاتھ نہیں لگائیں گے۔

مسجد کے ساتھ ہی معصوم علی کا مکان ہے انھوں نے بتایا کہ مقامی ایس ڈی ایم کہہ رہا ہے کہ ایک گھر میں صرف ایک خاندان کو ریلیف ملے گی یعنی اگرایک گھر میں کئی خاندان رہتے ہوں تو سب کو ریلیف نہیں ملے گی۔

اسی گلی میں مکان نمبر سی/1/28/413 ہے جس کا مالک پریم چند دلی پولیس میں آئی ایس آئی ہے اور اس نے یہ مکان 2007 سے ایک مسلم خاندان کو کرائے پر دے رکھا تھا۔ اس خاندان کے بھاگنے کے بعد فسادیوں نے اسے جلادیا لیکن ان کو تسلی نہیں ہوئی تو ایک باراورواپس آکر اسے دوبارہ جلایا۔

برج پوری میں ہم نے 30 سال پرانا ارون موڈرن اسکول دیکھا جس کے مالک بھیشم شرما کانگریس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اورکئی بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ اس اسکول کو 25؍فروری کی شام کو بری طرح جلایا گیا ۔ کمپیوٹراوردوسری لے جانے والی چیزیں لوٹ لی گئیں، یہاں تک کہ اسٹینلیس اسٹیل کی ریلنگ کو بھی فسادی اکھاڑکرلے گئے۔

شیووہار میں ہم نے دو اسکول دیکھے جن پر باہر سے آنے والے غنڈوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ پہلا اسکول راجدھانی پبلک اسکول ہے جس کے مالک فیصل فاروق ہیں اور دوسرا اسکول ڈی آر پی کا نونٹ اسکول ہے جس کے مالک پنکج شرما ہیں۔

راجدھانی پبلک اسکول میں ڈرائیور راج کمار نے ہم کو بتایا کہ دو شنبہ 24؍ فروری کی شام ساڑھے چھ بجے تقریباً 500 لوگ اسکول میں گھس آئے۔ وہ ہیلمیٹ پہنے ہوئے تھے اورانھوں نے اپنے چہروں کو چھپا رکھا تھا۔ یہ لوگ وہاں اگلے 24 گھٹے تک رہے اور اگلے دن شام کو پولیس کے آنے کے بعد علاقے سے چلے گئے۔

Image result for delhi riot and fire

ان میں سے کچھ ایک موٹی رسی استعمال کرکے اسکول کی چھت سے ساتھ ملے ڈی پی آر کانونٹ اسکول میں اتر گئے۔ انھوں نے اسکول کی چھت سے بڑی غلیلوں کے ذریعے سڑک کے اس پار گھروں میں پیٹرول بم پھینکے۔ یہ موٹی رسی ابھی تک اسکول میں پڑی ہوئی ہے۔ یہ لوگ اسکول میں کمپیوٹر سمیت جو کچھ بھی لے جا سکے اٹھا لے گئے۔

اسکول کے گارڈ روپ سنگھ ہم کو ان باہری غنڈوں کا وہی وصف بتایا جو ہمیں پاس کے راجدھانی پبلک اسکول کے ڈرائیور نے بتایا تھا۔ روپ سنگھ نے بتایا کہ عقبی دروازے سے انھوں نے باہر بھاگ کر اپنی اوراپنے خاندان کی جان بچائی جو اسکول میں ہی رہتے تھے۔

روپ سنگھ نے بتایا کہ یہ لوگ جو کچھ لوٹ سکے تھے انھوں نے لوٹ لیا اور باقی میں آگ لگادی ہم نے اسکول کے کھلے میدان میں بے شمار جلے ہوئے ڈیسکوں کے لوہے کے فریم پڑے ہوئے دیکھے۔ ان پر دوبارہ لکڑی کے ٹاپ لگائے جائیں گے۔

راجدھانی اسکول نے ہم کو ان غنڈوں کا ایک فوٹو بھی مہیا کیا جنھوں نے اسکول پر قبضہ کررکھا تھا۔ تقریباً دو ہزار کی تعداد میں ان غنڈوں نے ان دونوں اسکولوں میں 24 گھنٹے سے زیادہ قیام کیا اور اس دوران وہ 2۔3 گھنٹے کے لیے چھوٹے چھوٹے ٹرکوں میں جاکر باہر لوٹنے اور جلانے کا کام کرتے اور پھر واپس لوٹ آتے۔ ان کا کھانا انھیں یہیں اسکولوں کے اندر ملتا تھا۔ یہ واضح تھا کہ ان لوگوں کو مقامی مدد حاصل تھی۔

شیوپوری علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ یہاں مسلمان کم تعداد میں تھے اور چن چن کر ان کے گھر لوٹے گئے اور جلائے گئے۔ یہاں ہم کو اولیا مسجد ملی جس کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اس کے فرش پر ملبہ بھرا ہوا تھا اور وہاں دو گیس سلنڈر بھی فرش پر پڑے تھے۔

لگتا ہے کہ یہ سلنڈر پھٹے نہیں تھے۔ زیادہ تر گھروں میں گیس سلنڈروں سے بلاسٹ کیا گیا ہے۔ یہ گیس سلنڈر گھروں سے حاصل کیے گئے تھے۔ ہم نے یہاں گلی نمبر 10 میں اقرار ولد محمد افسر کی بیکری دیکھی جسے لوٹ کر غنڈوں نے 25 فروری کی رات میں جلا دیا۔

شمالی مشرقی دہلی میں مزید متاثرہ علاقے جہاں ہم نہیں جاسکے۔ مزید برآں ہزاروں لوگ اس علاقے سے بھاگ کر یوپی اور ہریانہ میں اپنے آبائی گاوؤں چلے گئے ہیں یا دہلی کے دوسرے علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے پاس یا مسلم سماج کے بنائے ہوئے کیمپوں میں مقیم ہیں۔ کچھ لوگ دہلی حکومت کے بنائے ہوئے کیمپوں میں بھی رہ رہے ہیں۔

ہمارا اندازہ ہے کہ شمالی مشرقی ضلع میں ہونے والا تشدد یکطرفہ تھا اوراس کی عمدہ پلاننگ کی گئی تھی تاکہ مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو خوب نقصان پہنچایا جاسکے۔غنڈوں کو مقامی مدد حاصل تھی۔

تبصرے بند ہیں.