ترکی نے خاشقجی قتل کیس میں 20 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی

ترکی نے سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں قتل کیس میں20 ملزمان کے خلاف باضابطہ فرد جرم عائد کردی۔

جن ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں سعودی انٹلیجنس سروس کے سابق ڈپٹی چیف احمد الاسیری اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سابق اہم مشیر سعود القحطانی شامل ہیں۔

اسیری اور قحطانی پر خاشقجی کا “جان بوجھ کر اور بہیمانہ قتل” کرنے کے لیے ملزمان کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ دیگر اٹھارہ سعودی شہریوں کے خلاف سعودی سفارت خانے کے اندر خاشقجی کا “جان بوجھ کراور بہیمانہ قتل” سرانجام دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ فرد جرم فون پر ہونے والی بات چیت، سفر کی تفصیلات، سی سی ٹی وی فوٹیج اور درجنوں گواہوں کے بیانات پر مبنی “شواہد” کی بنیاد پرعائد کی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نویس اور سعودی حکومت اور بالخصوص ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سخت ناقد 59 سالہ جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں قتل کردیا گیا تھا جب وہ وہاں سے اپنی منگیتر ہاتف چنگیز کے ساتھ شادی کے متعلق بعض دستاویزات حاصل کرنے گئے تھے۔

لیکن وہ اس عمارت سے کبھی باہر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی باقیات مل سکیں۔ ترک حکام کا الزام ہے کہ خاشقجی کو پندرہ افراد پر مشتمل سعودی اسکواڈ نے مار ڈالا تھا اوران کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.