ریسٹورینٹ میں سماجی دوری برقرار رکھنے کیلیے مجسموں کا استعمال

خطرناک عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں تمام عوامی مقامات، ریسٹورینٹس اور شاپنگ سینٹرز بند ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی موجود ہیں اور اب وہ اپنے پرانے طرزِ زندگی اور باہرجا کر ریسٹورینٹس میں کھانا کھانے کو بہت یاد کرنے لگے ہیں۔

متعدد ممالک نے سماجی دوری کی احتیاط کے ساتھ لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے ریٹسورینٹس اور اور دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی ہے۔اب حال ہی میں امریکا کے ایک ریسٹورینٹ کی ٹیبلز پر1940 کے اسٹائل کے مجسموں کو رکھا گیا ہے جو ریسٹورینٹ کھلنی کے بعد سماجی دوری کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ریسٹورینٹ کے مالک کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر اپنا ریسٹورینٹ کھول رہے ہیں اور اس وقت سماجی دوری کا خیال رکھتے ہوئے ہم نے یہاں مجسمے بھی رکھ دیے ہیں تاکہ ان کی وجہ سے اصل لوگ دور بیٹھ سکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت لوگوں کو باہر نکلنے اورایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کا بے حد دل چاہ رہا ہو گا اور ایسے میں یہ مجسمے لوگوں کی کمی کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سوئیڈن میں سماجی دوری پر خاص عمل کرتے ہوئے ایک ایسا ریسٹورینٹ کھولا گیا ہے جس میں ایک دن میں ایک ہی شخص کھانا کھا سکتا ہے اور وہاں بیٹھنے کے لیے صرف ایک ہی ٹیبل لگی ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.