امریکا میں پر تشدد مظاہرے جاری،مزید ایک شخص ہلاک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کا الزام بائیں بازو کےگروپ انٹیفا پرلگا دیا۔

امریکی صدرنے انٹیفا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بائیں بازو کے گروپ نے پرامن احتجاجی مظاہرےکو ہائی جیک کیا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ مینی پولس کے میئرانتفا پر پہلے دن پابندی لگا دیتے تو سب ٹھیک ہوتا۔

امریکا میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہو گئے، حالات پر قابو پانے کے لیے ملک کے درجنوں شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

امریکا میں کرفیو کے باوجود پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج کے لیے بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جس کی وجہ سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

ریاست کنٹکی کے شہرلوئس ولے میں کرفیو کی خلاف ورزی پرنیشنل گارڈزنے فائرنگ کرکےایک شہری کو ہلاک کر دیا،پولیس چیف کا کہناہے کہ ایک گروپ نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے ان پر فائرنگ کی۔

نیو یارک، شکاگو، فلیڈیلفیا اورلاس اینجلس جیسے بڑے شہروں میں ہجوم پر قابو پانے والے خصوصی پولیس دستوں کی مظاہرین کو منشترکرنے کی کوششوں کے دوران جھڑپوں کی خبریں ہیں۔

دارالحکومت واشنگٹن سمیت40 شہروں میں کرفیو نافذ ہے، وائٹ ہاؤس کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ انڈیانا پولس میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی، دیگر ریاستوں‌ میں‌ 4 ہزار سے زائد افراد کو گرفتارکرلیا گیا.

سیاہ فام جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امریکہ میں کالے گورے کی سیاست گرم ہے، واشنگٹن میں مظاہرین نے وائٹ ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے بیان نے جلتی پرآگ کا کام کیا کہ مظاہرین وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے تو انہیں خونخوارکتوں، سیکیورٹی اہلکاروں کاسامنا کرنا پڑیگا۔
عوام کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا، مختلف ریاستوں میں پولیس موبائل سمیت کئی گاڑیوں اور دکانوں کو نذرآتش کردیا گیا۔

جگہ جگہ دھویں کے بادل اور افراتفری کے مناظر ہیں۔ انڈیانا پولس میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مینیا پولس میں پولیس نے صحافیوں پر ربڑ کی گولیاں برسا دیں۔ شہریوں نے مطالبات منوائے بغیر احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکا کی سولہ ریاستوں کے پچیس شہروں میں کرفیو لگا دیا گیا، 15 سو سے زائد افراد کو گرفتارکرلیا گیا۔

ریاست ٹیکساس میں عوام کا سمندر سڑکوں پر نکل آیا، فرگوسن میں پولیس کی عمارت توڑ پھوڑ کے بعد خالی کروا لی گئی، لاس اینجیلس میں نیشنل گارڈز طلب کرلئے گئے، نیو یارک پولیس نے مظاہرین کے ہجوم پر گاڑی دوڑا دی۔

سیاہ فام جارج کو شہر مینیا میں پولیس اہلکار نے گردن پر گھٹنا رکھ کر دبایا جس سے اس کی موت ہو گئی تھی۔

تبصرے بند ہیں.