وفاقی کابینہ اجلاس۔تمام شوگر ملز کا 1985 سے آڈٹ کرنے کا فیصلہ

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے کابینہ کو غیر ضروری اخراجات ختم کرنے اور کفایت شعاری اپنانے کی ہدایت کی جبکہ تمام شوگر ملز کے آڈٹ کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے احتساب کے عمل کو جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ذرائع کے مطابق 1985 سے اب تک تمام شوگر ملز کا آڈٹ کیا جائے گا اور بدعنوانی کے کیسز قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجے جائیں گے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مہنگائی پر اثر نہ پڑنے پر وزیراعظم نے اظہار ناراضی کیا اور مشیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی، عبدالحفیظ شیخ مہنگائی میں کمی کیلیے صوبوں سے مشاورت کریں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کافائدہ عوام کو پہنچایاجائے، وزیراعظم نے چینی کی قیمت میں بھی کمی کی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں منظرعام پرآنے والی حالیہ تصویر کا بھی تذکرہ ہوا۔

کابینہ ارکان نے مؤقف اپنایا کہ نوازشریف ملک کا بیڑاغرق کرکےباہر سیروتفریح کررہےہیں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایسےلوگوں کوشرم بھی نہیں آتی۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اراکین نے اجلاس میں گندم اسکینڈل کی رپورٹ کا فرانزک کرانے کا مطالبہ کیا۔ فواد چوہدری، فیصل واوڈا اور مرادسعید نے گندم اسکینڈل کےذمے داران کو سامنے لانے کامطالبہ کیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نےایشیائی ترقیاتی بینک کواسلام آباد میں دفتر تعمیر کرنے کی اجازت دینے سمیت فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کےڈائریکٹرجنرل کی ڈیپوٹیشن پر تقرری کی منظوری دے دی ہے۔

کابینہ اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورکارپوریشن کی ملازمت کو لازمی سروسز کا حصہ قرار دینےکی بھی منظوری دی گئی ہے۔

تبصرے بند ہیں.