صوبائی وزیرغلام مرتضی بلوچ کوروناکے باعث انتقال کرگئے۔

سندھ کے وزیر برائے انسانی آبادکاری و خصوصی ترقی اور پیپلز پارٹی ضلع ملیر کے صدرغلام مرتضی بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔

صوبائی وزیر میں گزشتہ ماہ 12 مئی کو کورونا کی علامات ظاہر ہوئی تو انہوں نے اپنا ٹیسٹ کروایا ، 14 مئی کو جس کی رپورٹ مثبت آئی۔ وائرس کی تشخیص کے بعد چند روز گھر میں آئیسولیشن میں رہے اور طبیعت کی خرابی پرانہیں نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

وہ 4اگست 1964 کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے گریجویشن کراچی سے کیا۔وہ پارٹی کے دیرینہ کارکن اور رہنما تھے۔وہ دو مرتبہ گڈاپ ٹائون کے ناظم رہے۔ 2013 میں ملیرکے حلقہ 127 سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے اور 2018 کے عام انتخابات میں ملیر سے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 88 سے کام یاب ہوئے۔ غلام مرتضی بلوچ صوبائی حکومت کی جانب سے ملیر میں کورونا روک کی تھام کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کے انچارج بھی تھے۔ترجمان کے مطابق غلام مرتضیٰ بلوچ  شادی شدہ  اور ان کے چھ بچے ہیں۔ انہوں نے دو شادیاں کی تھیں ان کی ایک فیملی لندن میں مقیم ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی وزیر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ غلام مرتضٰی بلوچ کے دنیا سے رخصت ہونے پر شدید صدمہ ہوا۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں انہوں نے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ ہر دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کی بلندیٔ درجات کے لیے دعا گو ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی صوبائی وزیرکے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا مرتضی بلوچ محنتی اور بہادر کارکن تھے ان کی کمی پوری نہیں کی جاسکے گی۔

مرحوم کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں فقیر محمد گوٹھ گڈاپ میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں خاندان کے ساتھ ساتھ صوبائی وزیر سعید غنی، سلمان عبدللہ مراد رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ، رکن سندھ اسمبلی سلیم کلمتی اور پارٹی ارکان و علاقہ مکینوں نے شرکت کی۔

تبصرے بند ہیں.