امریکہ بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری۔10 ہزارافراد گرفتار

سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت پرامریکہ بھر میں مظاہروں کا سلسلہ نویں روز بھی جاری رہا۔پورے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران 10 ہزارافراد کوگرفتارکرلیا گیا۔
چالیس شہروں میں کرفیو کے باوجود مظاہرین نے کئی مقامات پر پابندیاں نظراندازکر دیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پورٹ لینڈ، اٹلانٹا، نیویارک سمیت مختلف شہروں میں مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔

مختلف شہروں میں پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے آنسو گیس اورلاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ لوٹ مار روکنے کیلیے نیشنل گارڈ تعینات کر دیے گئے۔ اہم عمارتوں کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کردی گئی ہے۔

نسل پرستی اورسیاہ فام برادری سے منافرت کے خلاف تحریک پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔ نیو یارک، واشنگٹن، نیواورلینزاور مینی سوٹا میں مشتعل مظاہرین نے ریلیاں نکالیں۔ مقتول جارج فلائیڈ کیلیے انصاف کا  مطالبہ کرنے کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پرنکلے۔

عرب ٹی وی کے مطابق امریکی ریاست مینسوٹا کے پراسیکیوٹر جنرل کیتھ السن نے جارج فلائیڈ کیس میں تین امریکی پولیس اہلکاروں کی دوبارہ گرفتاری کا حکم دیا۔

ایک پریس کانفرنس میں السن نے کہا کہ سیاہ فام شہری فلائیڈ کے قتل کے حوالے سے ہم ایک مضبوط کیس تیار کر رہے ہیں۔ امریکی سینٹ کے رکن ایمی کلوپوچار نے مینا پولیس میں ایک سیاہ فام شہری کے قتل کے واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مطالبے کے ساتھ ساتھ امریکا میں حکام نے تین پولیس اہلکاروں پر فلائیڈ کو گلے میں پھندا ڈال کرقتل کرنے کے الزامات سامنے آئے۔

تبصرے بند ہیں.