ایران اور امریکا کے درمیان برف پگھلنے لگی

امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کر دیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی نیوی اہلکار مائیکل وائٹ دو سال سے ایرانی قید میں تھا جبکہ ایرانی سائنسدان سائرس اصغری چار سال سے امریکی قید میں تھارپورٹ کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں ملوث ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی نیوی اہلکار کی رہائی ایرانی سائنسدان کی رہائی کے بعد عمل میں آئی ہے۔

مائیکل وائٹ اپنی دوست سے ملنے دو سال پہلے ایران گیا تھا لیکن اسے ایران کے سپریم ایرانی لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی سوشل میڈیا پر مبینہ توہین کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔غیر ملکی ایجنسی کے مطابق مائیکل وائٹ پچھلے کچھ عرصے سے کورونا کے مرض کا شکار ہو کر ایران میں زیر علاج تھا۔ایرانی سائنسدان کو اوہائیو کے تعلیمی دورے کے دوران امریکی راز چرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، ایرانی سائنسدان پچھلے سال امریکی عدالت سے بری ہونے کے باوجود امیگریشن حکام کی تحویل میں تھا۔

ایران سے امریکی فوجی کی رہائی پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نےثابت کر دیا کہ اہم تنازع پربات چیت ممکن ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے اہلکار کی رہائی پر ایران کا شکریہ بھی ادا کیااور کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سے معاہدہ ممکن ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ کسی خاص قیدی کا انتخاب ضروری نہیں، تمام قیدیوں کی رہائی ممکن ہے۔جواد ظریف نے کہا کہ ایرانی قیدی رہا کیے جائیں تو امریکی قیدی بھی اپنے گھر لوٹ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی امریکا اورایران سے ایک دوسرے کے قیدی رہا کیے تھے۔امریکا نے ایرانی سائنسدان کو رہا کیا تھا جب کہ ایران نے چینی نڑاد امریکی شہری کو رہا کیا تھا۔

تبصرے بند ہیں.