مقبوضہ کشمیر میں غیرانسانی لاک ڈاؤن کے10 ماہ مکمل

ترجمان دفتر خارجہ نے کہاہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری غیرانسانی لاک ڈاون کو 10 ماہ مکمل ہوگئے۔

اس دوران بھارتی فوج نے 4 خواتین سمیت 142 کشمیریوں کو شہید کیا، 1300 سے زائد افراد زخمی ہوئے، کشمیر میڈیا سروس نے رپورٹ جاری کردی۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم نہ رک سکا۔ جنت نظیر وادی میں کرفیو اورلاک ڈاؤن کو دس ماہ مکمل ہو گئے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے کرفیو لگا دیا تھا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو کے بعد دکانیں کاروباری مراکز،تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بند کر دی گئیں، اس دوران بھارتی فوج نے 4 خواتین سمیت 142 کشمیریوں کو شہید کیا۔ غاصب فوج کی فائرنگ ،آنسو گیس کی شیلنگ اور پیلٹ گن سے 1300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

بھارتی درندوں نے 74 خواتین کو زد وکوب کیا، ہزاروں نوجوانوں ،سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتارکیا گیا۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق 8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اب تک ایک ہزار 31 کشمیریوں کو شہید کیا گیا،27 ہزار 739 کشمیریوں پر تشدد اور زخمی کیا۔

رپورٹ کے مطابق 1989 سے اب تک بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 897 بچوں کو شہید کیا، ا یک لاکھ 7 ہزار 790 بچے یتیم ہوئے، اب تک 95 ہزار557 کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔

ان 10 ماہ کے دوران بھارتی قابض فوج نے کشمیریوں کے ہر حق کی خلاف ورزی کی ہے اور بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں اپنے غیرقانونی قبضے کوبرقرار رکھنے کے لیے کشمیری عوام پرظلم وجبراوراستحصال کا ہرحربہ استعمال کیا ہے۔

کشمیری عوام اور بھارت کے اندراقلیتوں کے ساتھ ہونے والا بدترین سلوک اورظلم واستحصال آرایس ایس کے زیراثر بی جےپی حکومت کی انتہا پسند ہندتوا سوچ کا براہ راست نتیجہ ہے جو انسانیت کے خلاف اپنے جرائم کے ارتکاب سے پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔

تبصرے بند ہیں.