عورت چڑیل، ڈاین یا ناگن

عورت میں جلن اور حسد فطری طور پر زیادہ رکھاگیا ہے۔ اسی لیے اس کے چڑیل، ڈائن اور ناگن بننے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔ مردوں کے اس معاشرے میں جہاں مرد عورتوں کا استحصال کرنے میں مصروف ہیں۔ وہاں عورتیں بھی اس میں بھرپور طریقے سے شریک ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی 21 کروڑ 70 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ جس میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں ہمارے معاشرے میں طلاقوں کی شرح میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جبکہ گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان تمام واقعات کے ہونے کی وجوہات کا بغور جائزہ لینے پر پتا چلتا ہے کہ ان تمام واقعات میں عورت ہی زیادہ تر  کسی نہ کسی روپ میں آلہ کار نظر آتی ہے۔ نند، بھاوج، سوتن، دیورانی، جٹھانی اور خوبصورت پڑوسن۔ ایسے میں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں خواتین کا ہی استحصال کیوں جاری ہے؟ چولہا پھٹنے پر صرف بہو مرتی ہے۔ طلاق شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کے آنے یا ساس بہو کے سمجھوتہ نہ کرنے سے ہی ہوتی ہیں۔ جلن اور حسد کی آگ میں کوئی بھی عورت جل کر کسی بھی حد تک چلی جاتی ہے۔

میری طرح آپ بھی شادیوں میں شرکت کرتے ہونگے۔ حال ہی مجھے ایک واقعہ سننے میں آیا۔ جس میں دو مہینے کے شادی شدہ جوڑے کے درمیان طلاق ہوگئی۔ جس کی وجہ ساس بہو کے جھگڑے بنے۔ بہو یہ چاہتی تھی کہ اسکا شوہر  2 مہینے میں بیس پچیس سال کی رفاقت کو بھلا کرخاندان سے الگ ہوجائے۔ کیا بہو کی یہ سوچ صحیح ہے؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

میرے خیال سے اگر ساس اور بہو کے روپ میں موجود خواتین شوہر اور بیٹے کے کردار کو سمجھ جائیں اور کھینچا تانی کے بجائے خود کو اس جگہ رکھ کر دیکھیں تو صورت حال کچھ بہتر ہوسکتی ہے۔ دیکھا جائے تو صنف نازک کی ایک مشترکہ خواہش ہے وہ مرد کو اپنا غلام یا اس پر حکمرانی کرے لیکن یہ ایک ایسا سراب ہے جو کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔

سوتن کی صورت میں ایک عورت ہی دوسری عورت کا گھر تباہ کررہی ہوتی ہے۔ مجھے اس بات کو کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ عورت کو اپنا غلام بناکر رکھے۔ وہ اس کے سامنے ایک غلام کی طرح ہاتھ باندھے کھڑی رہے مگر یہ بھی ایک بھیانک حقیقت ہے کہ عورت کی تذلیل میں، اُسکے آشیانے کو خاکستر کرنے  اُور اُسے بے آسرا کرنے میں جتنا ہاتھ  ایک دوسری عورت کا ہُوتا ہے، اُس کے مقابلے میں مَردوں کا حصہ شاید ہی ایک فی صد  بنتا ہو۔